پاکستان میں اگست 2026 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیل سالانہ بنیاد پر 0.70 فیصد کم ہو کر 4.039 ملین ٹن رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی ماہ 4.068 ملین ٹن تھی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ مقامی ترسیل 1.07 فیصد کم ہو کر 3.283 ملین ٹن رہی، جبکہ برآمدات معمولی 0.92 فیصد اضافے کے ساتھ 756,553 ٹن تک پہنچیں۔

اعداد میں شمال اور جنوب کی ملز کے درمیان واضح فرق سامنے آیا۔ شمالی ملز کی مجموعی ترسیل 2.691 ملین ٹن رہی، جو اگست 2025 کے 2.972 ملین ٹن کے مقابلے میں 9.43 فیصد کم ہے۔ جنوبی ملز نے 1.35 ملین ٹن سیمنٹ بھیجا، جو ایک سال پہلے کے 1.096 ملین ٹن سے 22.97 فیصد زیادہ ہے۔ علاقائی فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی سطح کی معمولی کمی کے پیچھے مختلف علاقوں میں بہت مختلف کاروباری حالات رہے۔

مقامی مارکیٹ میں شمالی ملز کی ترسیل 2.59 فیصد کم ہو کر 2.691 ملین ٹن رہی، جبکہ جنوبی ملز کی مقامی فروخت 6.53 فیصد بڑھ کر 591,164 ٹن ہو گئی۔ اگست میں شمالی ملز سے کوئی برآمد رپورٹ نہیں ہوئی، جبکہ جنوبی ملز کی برآمدات 39.83 فیصد بڑھ کر 756,553 ٹن تک پہنچ گئیں۔

جولائی اور اگست، یعنی رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں مجموعی سیمنٹ ترسیل 8.521 ملین ٹن رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 2.80 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں مقامی ترسیل 8.04 فیصد بڑھی لیکن برآمدات 16.69 فیصد کم ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ایک ماہ کی کمی کو پورے مالی سال کے رجحان کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔

اے پی سی ایم اے کے ترجمان نے شمالی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زراعت، رہائش اور عمومی معاشی سرگرمی پر اثرات کا ذکر کیا۔ ایسوسی ایشن کا یہ مؤقف صنعت کے نمائندہ ادارے کی تشریح ہے؛ سیمنٹ ترسیل میں کمی کی مکمل وجوہات جانچنے کے لیے تعمیراتی سرگرمی، قیمتوں، سرکاری ترقیاتی اخراجات اور علاقائی لاجسٹکس سمیت دیگر عوامل بھی دیکھنا ہوں گے۔ آئندہ مہینوں کے اعداد واضح کریں گے کہ شمالی مارکیٹ کی کمزوری عارضی موسمی اثر تھی یا زیادہ دیرپا رجحان۔