اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا عملی شیڈول طے کرتے ہوئے اس کی ڈیلیوری نومبر 2026 میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت 3 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں ملک میں گندم کے ذخائر، صوبائی ضروریات اور پہلے سے منظور شدہ درآمدی منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس نے ایک ملین میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے سابق اصولی فیصلے کی توثیق کی اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، ٹی سی پی، کو خریداری کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت دی۔ تازہ پیش رفت کا نیا عملی عنصر یہ ہے کہ مجموعی حد میں سے پہلے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن کی مقدار اور نومبر کی ڈیلیوری متعین کر دی گئی ہے۔ باقی ممکنہ 2 لاکھ 50 ہزار ٹن کے لیے الگ وقت یا خریداری کی حتمی تفصیل سرکاری بیان میں جاری نہیں کی گئی۔

اسحاق ڈار نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، پاسکو، کو اقتصادی رابطہ کمیٹی اور گندم سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے منظور شدہ حصوں کے مطابق صوبوں کو دستیاب گندم فوراً جاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے مختص ذخائر کی بروقت ادائیگی اور اٹھان یقینی بنائیں تاکہ گودام سے منڈی تک فراہمی میں انتظامی تاخیر نہ ہو۔

7 لاکھ 50 ہزار ٹن کی مقدار کی درآمد کا اعلان اس بات کا ثبوت نہیں کہ گندم پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی یا تمام تجارتی معاہدے مکمل ہو گئے ہیں۔ ٹی سی پی کو اب قابلِ اطلاق خریداری قواعد کے تحت بولی، قیمت، معیار، شپمنٹ، انشورنس اور ڈیلیوری سے متعلق کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔ حتمی لاگت، فی ٹن قیمت، فراہم کنندہ ملک یا ممالک اور بندرگاہی تقسیم کی تفصیل اس اجلاس کے سرکاری خلاصے میں نہیں بتائی گئی۔

حکومت نے درآمد اور پاسکو کے ذخائر کے اجرا کو ملک میں مناسب دستیابی، قیمتوں کے استحکام اور صارفین کو ریلیف سے جوڑا ہے۔ یہ پالیسی اہداف ہیں؛ آٹے اور گندم کی اصل بازار قیمتوں پر اثر درآمدی قیمت، مقامی رسد، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی کے خلاف نفاذ، صوبائی اٹھان اور ملوں تک بروقت فراہمی سمیت متعدد عوامل سے طے ہوگا۔ اس لیے نومبر کی کھیپ سے کسی مخصوص قیمت میں کمی کی مقدار ابھی یقینی نہیں۔

اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارتِ تجارت، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ نائب وزیراعظم نے اداروں کو مسلسل رابطہ رکھنے، ذخائر کے اعداد باقاعدگی سے ملانے اور صوبوں کی طلب کے مطابق فراہمی منظم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے گندم کی درآمد، قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور ذخیرہ اندوزی روکنے سے متعلق وفاقی و صوبائی تعاون کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

حکومت نے جولائی اور اگست میں ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک ملین ٹن تک درآمد کے منصوبے پر مختلف اجلاس کیے تھے۔ 3 ستمبر کا فیصلہ اسی وسیع منصوبے کو پہلے مرحلے کی مقدار اور ڈیلیوری مہینے کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے، اس لیے اسے نئی ایک ملین ٹن اضافی درآمد نہیں سمجھا جائے گا۔ مجموعی منظور شدہ بالائی حد بدستور ایک ملین ٹن ہے، جس میں پہلے مرحلے کے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن شامل ہیں۔

آئندہ قابلِ تصدیق مراحل ٹی سی پی کے ٹینڈر یا خریداری نتائج، حتمی قیمت، نومبر میں کھیپوں کی حقیقی آمد، پاسکو کے صوبائی اجرا اور بازار میں رسد و قیمت کے اعداد ہوں گے۔ فی الحال مصدقہ نتیجہ فوری خریداری شروع کرنے، پہلے مرحلے کی مقدار مقرر کرنے اور صوبوں کو موجودہ منظور شدہ ذخائر جاری کرنے کی انتظامی ہدایات ہیں۔