وفاقی حکومت نے مارکیٹ ٹریژری بلز کی تازہ نیلامی کے ذریعے 680 ارب روپے حاصل کیے ہیں، جبکہ مقررہ ہدف 800 ارب روپے تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیر انتظام نیلامی میں بینکوں اور دیگر سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 2.77 کھرب روپے کی بولیاں جمع کرائیں، جو سرکاری قلیل مدتی سیکیورٹیز کے لیے بلند طلب کی نشاندہی کرتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے مختلف مدتوں کے ٹی بلز میں بولیاں قبول کیں اور رپورٹ کے مطابق وزن شدہ اوسط ییلڈ تقریباً 11.60 فیصد رہی۔ سرمایہ کاروں کی طلب زیادہ تر کم مدت کے کاغذات کی طرف رہی، جبکہ طویل مدت کے ٹی بلز میں نسبتاً محدود دلچسپی دیکھی گئی۔ ایک ماہ کے ٹی بل کی کٹ آف ییلڈ 11.39 فیصد رہی، جو گزشتہ نیلامی کے مقابلے میں آٹھ بیسس پوائنٹس کم بتائی گئی۔

حکومت کی جانب سے 680 ارب روپے قبول کرنا اس بات کی مثال ہے کہ بہت زیادہ بولیاں موصول ہونے کے باوجود تمام پیشکشیں قبول کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک قرض کی ضرورت، پیش کردہ شرح منافع، مدت اور آئندہ ادائیگیوں کے پروفائل کو دیکھ کر مختلف بولیوں میں سے انتخاب کرتے ہیں۔ اسی لیے 2.77 کھرب روپے کی طلب کے مقابلے میں قبول شدہ رقم کافی کم رہی۔

ٹریژری بلز وفاقی حکومت کی قلیل مدتی قرض گیری کا بنیادی ذریعہ ہیں اور ان کی ییلڈز مالیاتی پالیسی، بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی اور مستقبل کی شرح سود کے بارے میں مارکیٹ توقعات سے متاثر ہوتی ہیں۔ کم مدت کے بلز کی طرف زیادہ طلب اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ سرمایہ کار موجودہ غیر یقینی ماحول میں طویل مدت کے مقابلے میں مختصر مدت کی پوزیشن کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم اس کی مکمل تشریح کے لیے دیگر نیلامیوں اور پالیسی شرح کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔

تازہ نیلامی سے حکومت کی فوری مالی ضرورت کا ایک حصہ پورا ہوگا، لیکن ٹی بلز کی مختصر مدت کے باعث ان کی میچورٹی پر دوبارہ ادائیگی یا ری فنانسنگ درکار ہوتی ہے۔ اس لیے قرض کے انتظام میں صرف حاصل شدہ رقم نہیں بلکہ مدت، ییلڈ اور آئندہ میچورٹی کا پھیلاؤ بھی اہم ہے۔ آنے والی نیلامیاں یہ دکھائیں گی کہ مارکیٹ کی بلند بولی طلب برقرار رہتی ہے اور حکومت مختلف مدتوں میں قرض کی لاگت کس سطح پر قبول کرتی ہے۔