اسلام آباد: سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے اور اس کی فوری ترجیح جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور متحارب فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانا ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کسی فوجی حل کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت پرامن سیاسی راستہ تلاش کرنے پر زور دے رہا ہے۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق علاقائی صورتِ حال منفی سمت میں بڑھ رہی ہے، اس لیے پاکستان سمجھتا ہے کہ اسے کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے چارٹر کی روح تنازعات کو جنگ کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی کوشش ہے کہ لڑائی روکی جائے، تناؤ کم ہو اور متعلقہ فریقوں کے درمیان سیاسی رابطہ بحال ہو۔
سیکریٹری خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تصادم کے تناظر میں بھی پاکستان کے سفارتی کردار کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسلام آباد ان ممالک میں شامل رہا جو بحران کو قابو میں رکھنے اور رابطوں کے دروازے کھلے رکھنے کے لیے آگے بڑھ کر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی سے متعلق مکہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فریم ورک میں پاکستان کی ذمہ داری بڑھی ہے اور بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے خلیجی سلامتی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم بحری راستوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ پاکستان پہلے بھی فریقین سے تحمل، جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کرتا رہا ہے۔ عاصم افتخار احمد نے اس تاثر سے بھی اختلاف کیا کہ اقوامِ متحدہ امن کی کوششوں میں غیر مؤثر ہو چکی ہے، اور کہا کہ عالمی ادارہ اب بھی بین الاقوامی تنازعات کے حل میں اہم کردار رکھتا ہے۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے معاملات کے حل کے لیے بھی متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پابندی پر زور دیا۔
سیکریٹری خارجہ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان موجودہ بحران میں ثالثی یا سہولت کاری کی گنجائش برقرار رکھنے، سفارتی رابطے بڑھانے اور کسی وسیع تر علاقائی تصادم سے بچنے کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں رکھے ہوئے ہے۔ تاہم کسی بھی عملی پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقوں کی جنگ بندی اور مذاکرات پر آمادگی پر ہوگا۔




