نئی دہلی: چین کے صدر شی جن پنگ نے برکس ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت، تجارت اور سرمایہ کاری میں عملی تعاون بڑھانے کے لیے متعدد نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسیع تر یا ’گریٹر برکس‘ تعاون کی کامیابی کے لیے صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم رکھنا، منڈیوں کو زیادہ مربوط بنانا اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کو عملی شکل دینا ضروری ہے۔
شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین برکس اے آئی اوپن سورس زون کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ اس مجوزہ پلیٹ فارم کا مقصد بڑے لینگویج ماڈلز، مصنوعی ذہانت کی تربیت اور ایک زیادہ کھلے اے آئی ماحولیاتی نظام میں رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا ہے۔ اس اقدام کی تفصیلی حکمرانی، رکنیت، فنڈنگ اور تکنیکی قواعد ابھی سامنے نہیں آئے، اس لیے فی الحال اسے سربراہی سطح کی پالیسی تجویز سمجھا جا رہا ہے۔
چینی صدر نے برکس خصوصی اقتصادی زون شراکت داری کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ چین 2027 میں برکس سروسز ٹریڈ فورم کی میزبانی کرے گا۔ ان اقدامات کا مقصد خدمات، تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط میں اضافہ کرنا اور مختلف رکن معیشتوں کی مسابقتی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا بتایا گیا ہے۔ انہوں نے صنعتی اور سپلائی چینز کو مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنے پر بھی زور دیا۔
برکس اب اپنے ابتدائی پانچ ممالک برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سے بڑھ کر ایران، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات سمیت 11 رکن ممالک پر مشتمل ہے، جبکہ متعدد شراکت دار ممالک بھی اس کے ساتھ منسلک ہیں۔ چین اور روس اس وسیع تر نیٹ ورک کو بعض اوقات ’گریٹر برکس‘ کے نام سے بیان کرتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں کہا کہ برکس کی طاقت اس کے تنوع اور تعاون میں ہے اور گروپ کو جامع عالمی ترقی کے لیے عملی نتائج پیدا کرنے چاہییں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی برکس کو زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کی سمت ایک اہم قوت قرار دیا اور رکن ممالک کی مختلف اقتصادی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کی حمایت کی۔ اجلاس کے دوران تجارت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی جنگ، توانائی کی سلامتی اور عالمی سپلائی چینز میں خلل جیسے موضوعات بھی زیر بحث رہے۔
چینی تجاویز کے عملی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ رکن ممالک انہیں مشترکہ قواعد، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی انتظامات میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔ اے آئی اوپن سورس زون اور خصوصی اقتصادی زون شراکت داری کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی ان کے دائرہ کار اور رکن ممالک کے لیے حقیقی اقتصادی فوائد کا واضح اندازہ ممکن ہوگا۔




