انڈونیشیا کے بحیرۂ جاوا میں خراب موسم کے دوران ایک مسافر فیری الٹنے کے بعد کم از کم 129 لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیموں نے 108 افراد کو بچا لیا ہے، جبکہ چھ مسافروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ تلاش کا دائرہ جہاز کی آخری معلوم پوزیشن اور الٹی ہوئی فیری کے اطراف بڑھا دیا گیا ہے۔

مسافر بردار جہاز ورگو ٹرانسپورٹ 8 مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کلیمانتان کے بنجرماسین جا رہا تھا۔ جہاز کے کپتان نے رابطہ منقطع ہونے سے پہلے تقریباً تین میٹر بلند لہروں اور فیری کے ایک جانب جھکنے کی اطلاع دیتے ہوئے ہنگامی پیغام بھیجا تھا۔ بعد میں فضائی نگرانی سے معلوم ہوا کہ جہاز سمندر کی سطح پر الٹی حالت میں موجود ہے اور مکمل طور پر غرق نہیں ہوا۔

مسافروں کی سرکاری فہرست کے مطابق فیری میں 213 مسافر اور عملے کے 30 ارکان سمیت 243 افراد سوار تھے۔ جہاز پر 89 گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ انڈونیشیا میں بعض اوقات مسافروں کی حقیقی تعداد فہرست سے مختلف ہوتی ہے، اس لیے حکام بندرگاہی ریکارڈ، خاندانوں کی اطلاعات اور بچائے گئے افراد کے بیانات کو ملا کر تعداد کی تصدیق کر رہے ہیں۔

بنجارمسین کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی نے بتایا کہ امدادی کارروائی میں متعدد جہاز شامل ہیں، جن میں بحریہ کے چار جہاز، دیگر سرکاری کشتیاں اور علاقے سے گزرنے والے تجارتی و ٹگ بوٹس بھی مدد کر رہے ہیں۔ دو ہیلی کاپٹر فضائی تلاش میں استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ سمندر کی ناہموار صورتحال امدادی ٹیموں کے کام کو مشکل بنا رہی ہے۔

بچائے گئے افراد کو بندرگاہ پہنچا کر طبی امداد دی گئی، جبکہ لاپتا مسافروں کے اہل خانہ بنجرماسین کی تری ساکتی بندرگاہ پر قائم کمانڈ مرکز میں معلومات کے منتظر ہیں۔ حکام کی ترجیح سمندر میں ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو جلد تلاش کرنا اور الٹی ہوئی فیری کے اندر پھنسے افراد کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔

تقریباً 119 میٹر طویل یہ فیری 1987 میں جاپان میں تیار ہوئی تھی اور بعد میں انڈونیشی آپریٹر کو فروخت کی گئی۔ حادثے کی حتمی وجہ کی تحقیقات ابھی شروع ہونا باقی ہیں، تاہم ابتدائی معلومات میں خراب موسم اور بلند لہروں کا ذکر کیا گیا ہے۔

سترہ ہزار سے زیادہ جزائر پر مشتمل انڈونیشیا میں فیریاں مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت کا اہم ذریعہ ہیں۔ ماضی میں بھی سمندری حادثات کے بعد حفاظتی ضوابط، جہازوں کی فٹنس، مسافر فہرستوں اور موسم سے متعلق انتباہات پر عمل درآمد کے بارے میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ موجودہ کارروائی میں حکام نے کہا ہے کہ جب تک تمام ممکنہ علاقوں کی تلاشی مکمل نہیں ہوتی، بحری اور فضائی تلاش جاری رکھی جائے گی۔