اقوام متحدہ: پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی بدلتی حکمت عملی، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال اور سرحد پار نیٹ ورکس کے مقابلے کے لیے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نظام اور پابندیوں کے فریم ورک میں موجود خلا دور کیے جائیں۔ یہ مؤقف پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے 12 ستمبر کو سلامتی کونسل کی اس بحث میں پیش کیا جو 11 ستمبر کے حملوں کے پچیس برس مکمل ہونے کے تناظر میں عالمی دہشت گردی کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے ہوئی۔

Dawn کے مطابق اسی بحث کے دوران سلامتی کونسل کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ، CTED، کی نئی assessment بھی زیرِ غور آئی۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ دہشت گرد تنظیموں کا پروپیگنڈا اب محض پیغام رسانی تک محدود نہیں رہا بلکہ بھرتی، فنڈ ریزنگ، آپریشنل منصوبہ بندی اور بعض حالات میں مقامی اثر و رسوخ قائم کرنے کے طریقوں کا حصہ بن رہا ہے۔ رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، ٹی ٹی پی، سمیت کئی گروہوں کو ان مثالوں میں شامل کیا گیا جو جدید آن لائن طریقوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ 2001 کے بعد دہشت گردی کا خطرہ شکل بدل چکا ہے اور مصنوعی ذہانت، ڈرونز، ڈارک ویب، ورچوئل اثاثے اور کرپٹو کرنسیاں پروپیگنڈا، انتہا پسندانہ بھرتی، نیٹ ورکنگ، حملوں کی منصوبہ بندی اور فنانسنگ کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات پر پاکستان کی تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور داعش سمیت گروہوں کے خلاف موثر بین الاقوامی کارروائی پر زور دیا۔

عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے پابندی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت بھی بیان کی۔ ان کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہوں، مالی ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے ممالک کے درمیان معلومات اور عملی تعاون بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ تین برس میں دہشت گردی کے واقعات میں 4,700 سے زیادہ جانوں کا نقصان اٹھایا ہے، جبکہ صدی کے آغاز سے دہشت گردی میں پاکستان کے 90 ہزار سے زیادہ شہری اور سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اعداد پاکستانی نمائندے کی سلامتی کونسل میں دی گئی بیان کردہ تفصیلات ہیں۔

بحث میں ایک دوسرا اہم پہلو انسانی حقوق کا بھی سامنے آیا۔ 30 سے زیادہ آزاد اقوام متحدہ انسانی حقوق ماہرین نے خبردار کیا کہ گزشتہ پچیس برس میں بعض انسداد دہشت گردی اقدامات نے بنیادی آزادیوں، شہری معاشرے اور بین الاقوامی قانون کو نقصان پہنچایا۔ برطانیہ اور دیگر ارکان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔

CTED assessment نے اس فرق کو بھی نمایاں کیا جس میں دہشت گرد گروہ اپنی آن لائن اور تکنیکی حکمت عملی نسبتاً تیزی سے بدل رہے ہیں جبکہ کئی ریاستوں کے قوانین اور پالیسی ردعمل اس رفتار سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی بحث کا نتیجہ کسی نئے پابندی پیکیج کی فوری منظوری نہیں تھا؛ پاکستان کا مطالبہ پالیسی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے تھا، جس پر آئندہ بین الاقوامی کارروائی الگ قانونی اور سفارتی مراحل سے گزرے گی۔