مسقط: عمان نے ایران اور خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق 14 ستمبر 2026 کو صلالہ میں طے شدہ علاقائی اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔ عمان نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان کے مطابق اجلاس کو بعد کی تاریخ تک مؤخر کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ تعمیری بات چیت کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کیے جا سکیں۔ نئی تاریخ کا فوری اعلان نہیں کیا گیا۔
مذکورہ اجلاس میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک عارضی فریم ورک اور اسے علاقائی حمایت دینے کے امکانات زیرِ بحث آنا تھے۔ رائٹرز کے مطابق عمان نے ایران اور خلیجی ممالک کی میزبانی کرنا تھی اور بات چیت کا ایک اہم مقصد اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے مذاکرات آگے بڑھانا تھا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور موجودہ مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران یہاں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک ذمہ دارانہ طریقۂ کار تک پہنچنے کے لیے اجلاس مؤخر کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر مؤخر ہوا۔ سعودی حکام کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی فوری آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے ایرانی موقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ عمان نے اپنے سرکاری بیان میں کسی ایک ملک کو تاخیر کا ذمہ دار قرار دینے کے بجائے سازگار اور تعمیری ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کی ملتوی ہونے کی خبر ایسے وقت سامنے آئی جب یمن میں حوثی فورسز اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھی اور خطے میں تیل کی تنصیبات اور بحری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات گہرے ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ چند روز قبل سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی تیل پائپ لائن بھی ایک حملے سے متاثر ہوئی تھی۔ یہ واقعات مذاکرات کے وسیع علاقائی پس منظر کا حصہ ہیں، تاہم عمان کے سرکاری بیان نے اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے کو کسی ایک حملے کا براہ راست نتیجہ قرار نہیں دیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی اور جہاز رانی کے انتظام پر علاقائی سطح پر بات چیت ضروری ہے، جبکہ خلیجی ممالک کے لیے توانائی برآمدات اور تجارتی جہاز رانی کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت بنیادی ترجیح ہے۔ موجودہ تعطل کا مطلب مذاکرات کا خاتمہ نہیں؛ عمان نے اجلاس کو منسوخ کرنے کے بجائے بعد کی تاریخ تک مؤخر کیا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار نئی تاریخ پر اتفاق، علاقائی سیکیورٹی حالات اور مجوزہ جہاز رانی فریم ورک پر شریک ممالک کے درمیان قابلِ قبول اتفاق رائے پیدا ہونے پر ہوگا۔
