لندن: برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، ہاؤس آف کامنز، نے terminally ill بالغ افراد کے لیے سخت شرائط کے تحت طبی معاونت سے زندگی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ Dawn میں شائع ہونے والی Reuters رپورٹ کے مطابق ارکان پارلیمنٹ نے بل کے خلاف 286 اور حق میں 270 ووٹ دیے، جس کے نتیجے میں موجودہ پارلیمانی سیشن میں assisted dying قانون سازی کی تازہ کوشش ابتدائی مرحلے ہی میں ختم ہو گئی۔
مجوزہ قانون انگلینڈ اور ویلز میں ایسے ذہنی طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بالغوں پر لاگو ہونا تھا جن کے بارے میں طبی اندازہ ہو کہ ان کی متوقع زندگی چھ ماہ یا اس سے کم رہ گئی ہے۔ بل کے تحت کسی بھی درخواست کو پیشہ ور افراد کے ایک پینل کی منظوری سے گزرنا تھا۔ حامیوں کا مؤقف تھا کہ مناسب حفاظتی شرائط کے ساتھ terminally ill افراد کو اپنی زندگی کے آخری مرحلے کے بارے میں زیادہ اختیار ملنا چاہیے۔
لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ Lauren Edwards نے یہ تجویز Private Member’s Bill کے طور پر پیش کی تھی۔ انہوں نے ووٹ کے نتیجے کو ان مریضوں اور خاندانوں کے لیے مایوس کن قرار دیا جو قانون میں تبدیلی کی امید کر رہے تھے۔ دوسری جانب Care Not Killing سمیت مخالف گروہوں نے نتیجے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانون کمزور اور دباؤ کا شکار افراد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور توجہ palliative care بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔
بحث کا مرکزی اختلاف safeguards پر رہا۔ مخالف ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض بیمار یا معذور افراد خود کو خاندان یا معاشرے پر بوجھ سمجھ کر دباؤ محسوس کر سکتے ہیں، جبکہ حامیوں نے کہا کہ مجوزہ پیشہ ورانہ جانچ اور اہلیت کی محدود شرائط ایسے خطرات کم کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ وزیراعظم Andy Burnham کی حکومت نے بل پر سرکاری طور پر غیر جانب دار مؤقف رکھا اور ارکان کو ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی اجازت دی؛ وزیراعظم خود ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔
گزشتہ کوشش میں بھی اسی نوعیت کے بل کو Commons کی حمایت ملی تھی، مگر House of Lords میں وقت ختم ہونے کے باعث وہ قانون نہ بن سکا۔ تازہ بل چونکہ موجودہ سیشن کے پہلے پارلیمانی مرحلے پر ہی ناکام ہو گیا ہے، اس لیے اسے اسی سیشن میں دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ 2015 میں بھی Commons نے assisted dying کو قانونی بنانے کی ایک کوشش مسترد کی تھی۔
یہ ووٹ assisted dying کی طبی یا اخلاقی حیثیت پر حتمی سماجی فیصلہ نہیں، بلکہ موجودہ قانون میں مجوزہ تبدیلی پر پارلیمانی فیصلہ ہے۔ برطانیہ میں اس موضوع پر عوامی رائے، palliative care کی دستیابی اور vulnerable افراد کے تحفظ کے سوالات بدستور سیاسی بحث کا حصہ ہیں، تاہم 11 ستمبر 2026 کے ووٹ کے بعد انگلینڈ اور ویلز میں قانونی پابندی اپنی موجودہ شکل میں برقرار ہے۔

