برلن: جرمنی میں دائیں بازو کی Alternative for Germany، AfD، کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں منتظمین کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ Dawn میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق 12 ستمبر کو برلن، ہیمبرگ اور میونخ سمیت قریب 20 شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور AfD کے سیاسی عروج اور ریاستی حکومت بنانے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ مظاہرے Saxony-Anhalt کے ریاستی انتخاب کے ایک ہفتے بعد ہوئے، جہاں AfD نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ مرکز دائیں بازو کی CDU کو تقریباً 17 فیصد ووٹ ملے۔ رپورٹ کے مطابق AfD مکمل اکثریت سے تین نشستیں پیچھے رہی اور حکومت سازی کے لیے دیگر گروہوں یا ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ملک گیر احتجاج کی اپیل Pruef نامی گروپ نے کی، جو AfD پر پابندی کی حمایت کرتا ہے، جبکہ Campact سمیت دیگر سول سوسائٹی تنظیمیں بھی مظاہروں میں شریک تھیں۔ منتظمین نے ہیمبرگ میں تقریباً 25 ہزار اور میونخ میں 12 ہزار مظاہرین کی شرکت کا دعویٰ کیا۔ برلن پولیس نے دارالحکومت میں مختلف مقامات پر کئی ہزار افراد کی موجودگی کی تصدیق کی، تاہم ملک گیر مجموعی تعداد منتظمین کا تخمینہ ہے۔
مظاہرین کے نعروں میں AfD پر پابندی کا مطالبہ اور جمہوری نظام کے دفاع کی اپیل شامل تھی۔ Campact کے سربراہ Christoph Bautz نے کہا کہ سول سوسائٹی کے مختلف طبقات Saxony-Anhalt میں AfD کو حکومتی اختیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ AfD نے برلن میں جوابی مظاہرہ بھی کیا، جس میں پارٹی کی علاقائی انتخابی امیدوار Kristin Brinker شریک ہوئیں۔
جرمنی میں AfD پر ممکنہ پابندی ایک پیچیدہ آئینی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ پارٹی کے ناقدین اسے جمہوری اداروں اور اقلیتوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ AfD اپنے خلاف ایسے الزامات کو سیاسی مخالفت قرار دیتی ہے۔ وفاقی سطح پر کسی جماعت پر پابندی کے لیے سخت آئینی معیار اور عدالتی عمل درکار ہوتا ہے۔ چانسلر Friedrich Merz نے بھی اس راستے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، اس لیے مظاہروں میں اٹھایا گیا پابندی کا مطالبہ خود بخود کسی قانونی کارروائی کے آغاز کے برابر نہیں۔
AfD کی انتخابی کامیابی اور اس کے بعد ہونے والے احتجاج جرمنی میں مہاجرت، معاشی دباؤ اور سیاسی قطبیت پر جاری بحث کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ موجودہ مرحلے پر Saxony-Anhalt میں حکومت سازی کے مذاکرات جاری رہنے ہیں، جبکہ برلن کے علاقائی انتخابات اور وفاقی سیاسی ردعمل اس بات پر اثر انداز ہوں گے کہ AfD کی حالیہ کامیابی کس حد تک عملی حکومتی طاقت میں تبدیل ہوتی ہے۔
