ویانا: سعودی عرب نے مدینہ کے علاقے میں جبل صاید منصوبے کے تحت تقریباً 110 ملین ٹن ایسے معدنی خام کی نشاندہی کا اعلان کیا ہے جس میں نایاب معدنی عناصر کے ساتھ یورینیم کی امید افزا مقدار بھی پائی گئی ہے۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے 14 ستمبر 2026 کو ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس دریافت کی تفصیلات بیان کیں۔ سعودی سرکاری میڈیا اور رائٹرز نے اس اعلان کی رپورٹنگ کی۔

وزیر توانائی کے مطابق جبل صاید میں ارضیاتی سروے اور تلاش کے کام سے تقریباً 110 ملین ٹن خام معدنی مواد کے وسائل کا اندازہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مواد میں نایاب زمینی عناصر، خصوصاً ہیوی ریئر ارتھ عناصر، کی بلند مقدار کے ساتھ یورینیم کی بھی امید افزا موجودگی پائی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار 110 ملین ٹن خالص یورینیم کی دریافت کو ظاہر نہیں کرتے؛ مقدار مجموعی معدنی خام کی ہے، جبکہ اس میں قابلِ استخراج یورینیم کی حقیقی مقدار، گریڈ اور تجارتی قابلِ عمل ہونے کی تفصیلی سطح ابھی الگ تکنیکی جائزوں کی محتاج ہے۔

سعودی وزیر نے اسی خطاب میں کہا کہ مملکت کا قومی جوہری توانائی منصوبہ یورینیم کے مقامی وسائل کی تلاش اور ان کے ممکنہ اقتصادی استعمال کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اپنے توانائی مکس میں جوہری توانائی کو شامل کرنے کے لیے قومی اور ریگولیٹری ڈھانچے کو آگے بڑھا رہا ہے اور یہ پروگرام بین الاقوامی ذمہ داریوں اور آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے سعودی وزیر سے ملاقات کے بعد کہا کہ سعودی عرب جوہری بجلی کے پروگرام اور تحقیقی ری ایکٹر کی سمت پیش رفت کر رہا ہے اور عدم پھیلاؤ سے وابستگی کا اظہار کر رہا ہے۔ سعودی حکام نے بھی زور دیا کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے بین الاقوامی اداروں سے الگ یا خفیہ طور پر تیار نہیں کیا جا رہا۔

جبل صاید کی موجودہ دریافت معدنی وسائل کی ابتدائی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس سے فوری طور پر کان کنی، یورینیم افزودگی یا جوہری ایندھن کی تیاری شروع ہونے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ خام مواد کو تجارتی ذخیرے میں تبدیل کرنے کے لیے مزید ارضیاتی تصدیق، گریڈ کے تخمینے، اقتصادی فزیبلٹی، ماحولیاتی جائزے اور ریگولیٹری منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اعلان کا بنیادی نکتہ سعودی عرب کے مقامی معدنی و یورینیم وسائل کے ممکنہ حجم کی نئی سرکاری نشاندہی ہے۔