واشنگٹن: امریکا میں 15 ستمبر 2026 سے بین الاقوامی طلبہ کے امیگریشن قیام کے قواعد میں بڑی تبدیلی نافذ ہو رہی ہے، جس کے تحت F-1 طلبہ کے لیے طویل عرصے سے استعمال ہونے والا ’دوریشن آف اسٹیٹس‘ نظام ختم کر کے مقررہ مدتِ داخلہ متعارف کرائی گئی ہے۔ نئے نظام میں طالب علم کو عموماً اس کے Form I-20 پر درج تعلیمی پروگرام کی مدت کے مطابق امریکا میں داخلہ دیا جائے گا، تاہم یہ مدت عام طور پر زیادہ سے زیادہ چار سال تک ہوگی۔
نئے قواعد کے تحت F-1 طالب علم پروگرام شروع ہونے سے 30 دن پہلے امریکا آ سکتا ہے اور پروگرام یا مجاز پوسٹ کمپلیشن تربیت ختم ہونے کے بعد روانگی کی تیاری کے لیے 30 دن کی مدت ہوگی۔ پہلے بعض طلبہ کے لیے پروگرام یا OPT مکمل ہونے کے بعد 60 روزہ گریس پیریڈ دستیاب تھا، جو نئے فکسڈ پیریڈ نظام سے مشروط طلبہ کے لیے 30 دن کر دیا گیا ہے۔
اگر کسی طالب علم کو موجودہ پروگرام مکمل کرنے، نیا پروگرام شروع کرنے، پوسٹ کمپلیشن OPT یا STEM OPT جاری رکھنے کے لیے منظور شدہ مدت سے زیادہ وقت درکار ہو تو اسے اضافی امیگریشن کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایسے طلبہ اپنے تعلیمی ادارے کے Designated School Official سے رابطہ کر کے اپ ڈیٹ شدہ Form I-20 حاصل کرنے کے بعد USCIS میں Form I-539 کے ذریعے قیام میں توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں، یا امریکا سے باہر جا کر واپسی پر نئی مدتِ داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ 15 ستمبر موجودہ تمام F-1 طلبہ کے لیے فوری طور پر نئی درخواست دائر کرنے یا امریکا چھوڑنے کی عمومی آخری تاریخ نہیں ہے۔ جو طلبہ اس تاریخ کو پرانے ’دوریشن آف اسٹیٹس‘ نظام کے تحت امریکا میں قانونی F-1 حیثیت میں موجود ہیں، وہ عبوری قواعد کے مطابق اپنے متعلقہ پروگرام، OPT یا STEM OPT کی مقررہ اختتامی تاریخ تک رہ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عبوری مدت کی عمومی بالائی حد 14 نومبر 2030 تک رکھی گئی ہے، تاہم انفرادی صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی سفر ایک اہم استثنا ہے۔ 15 ستمبر کے بعد امریکا سے باہر جانے والے موجودہ F-1 طلبہ واپسی پر نئے مقررہ مدت والے نظام کے تحت دوبارہ داخل کیے جا سکتے ہیں اور ان کے I-94 ریکارڈ پر مخصوص ’admit until‘ تاریخ درج ہو سکتی ہے۔ اسی لیے متعدد امریکی جامعات نے طلبہ کو بیرونِ ملک سفر سے پہلے اپنے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ آفس سے مشورہ کرنے اور ہر سفر کے بعد I-94 ریکارڈ چیک کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نئے قواعد تعلیمی منصوبوں میں بعض تبدیلیوں پر بھی مزید پابندیاں لاتے ہیں۔ انڈرگریجویٹ طلبہ عام طور پر پہلے تعلیمی سال میں مخصوص استثنائی حالات کے بغیر اپنا تعلیمی درجہ یا میجر تبدیل نہیں کر سکیں گے، جبکہ گریجویٹ طلبہ کے لیے پروگرام، میجر یا ادارہ تبدیل کرنے پر بھی اضافی شرائط ہوں گی۔ USCIS نے I-539 اور روزگار کی اجازت کے Form I-765 کے نئے ایڈیشن استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
یہ تبدیلی F-1 طلبہ کے علاوہ J-1 ایکسچینج وزیٹرز اور بعض I ویزا ہولڈرز کے قیام کے نظام کو بھی مقررہ مدت سے جوڑتی ہے۔ پاکستانی طلبہ سمیت امریکا میں تعلیم حاصل کرنے یا مستقبل میں داخلہ لینے والے بین الاقوامی طلبہ کے لیے عملی اثر ان کے I-20، I-94، پروگرام کی مدت، سفر اور OPT منصوبے کے مطابق مختلف ہوگا۔
