ریاض/بغداد: سعودی عرب نے کہا ہے کہ عراق کی سمت سے آنے والے متعدد ڈرونز نے اس کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جس کے بعد حکام نے تیل کی ترسیل کے اس راستے کو احتیاطی طور پر عارضی طور پر بند کر دیا۔ Dawn میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کے مختلف حصوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور کہا کہ حملوں سے انسانی زخمی اور مادی نقصان ہوا۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ابقیق کے قریب سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران اس راستے کی اہمیت بڑھ گئی ہے کیونکہ سعودی عرب اسے خلیج سے باہر تیل کی ترسیل کے متبادل کے طور پر زیادہ استعمال کر رہا ہے۔ اسی لیے پائپ لائن کی عارضی بندش نے عالمی توانائی منڈی میں پہلے سے موجود رسد کے خدشات کو مزید نمایاں کیا۔
سعودی توانائی کے ایک اہلکار نے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کو بتایا کہ پائپ لائن احتیاطی اقدام کے طور پر روکی گئی اور حملوں میں بعض افراد زخمی ہوئے۔ یورپی کوپرنیکس سینٹینل سیٹلائٹ کے 10 ستمبر کے مشاہدات میں مدینہ کے قریب پائپ لائن کے عمومی راستے سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ دستیاب سرکاری بیانات نے نقصان کی مکمل مالی یا پیداواری مقدار فوری طور پر واضح نہیں کی۔
عراق کے وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی کہ حملے کا آغاز عراقی سرزمین سے ہوا اور حکومت نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ بغداد نے کہا کہ جنوبی صوبہ میسان میں ذمہ دار فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم حملہ آوروں کی شناخت، ڈرونز کو چلانے والے گروہ اور کمانڈ چین سے متعلق تفصیلات اس مرحلے پر مکمل طور پر عوامی نہیں کی گئیں، اس لیے کسی مخصوص گروہ کی ذمہ داری کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم کی درخواست پر ریاض نے فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے اور بغداد کی ان کوششوں کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کا مقصد عراقی سرزمین سے سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کو روکنا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب نے اپنے دفاع، سلامتی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھنے کی بات کی۔ بحرین، اردن، قطر اور خلیج تعاون کونسل نے بھی حملے کی مذمت کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، سمندری راستوں اور تجارتی جہاز رانی کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی تھیں۔ پائپ لائن کی عارضی بندش خود بخود طویل المدت برآمدی تعطل ثابت نہیں کرتی، لیکن آبنائے ہرمز کے متبادل راستے پر حملہ توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم نئی تشویش بن کر سامنے آیا ہے۔
