جکارتہ/سورابایا: انڈونیشیا کے جاوا سمندر میں مسافر جہاز Virgo Transport 8 الٹنے کے بعد پیر 14 ستمبر 2026 کو 129 لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری رہا، تاہم تیز ہواؤں اور بلند لہروں نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا۔ انڈونیشیا کی قومی ریسکیو ایجنسی کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 243 افراد سوار تھے، جن میں سے 108 کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

جہاز اتوار کی صبح خراب موسم کے دوران لاپتہ ہوا تھا اور سورابایا، مشرقی جاوا سے جنوبی کلیمانتان کے بنجرماسین جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق واقعے کے وقت سمندر میں لہریں تقریباً تین میٹر تک بلند تھیں اور ایک بڑی لہر جہاز کے دائیں حصے سے ٹکرانے کے بعد وہ ایک طرف جھک گیا۔ بعد میں جہاز الٹ کر جزوی طور پر پانی میں ڈوب گیا۔

قومی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد شفیعی نے بتایا کہ کم از کم 622 اہلکار، 17 بحری جہاز، پانچ ہیلی کاپٹر اور دیگر طیارے تلاش میں حصہ لے رہے ہیں۔ کچھ امدادی جہاز حادثے کی جگہ تک پہنچ چکے ہیں، مگر تیز ہوا اور بے قابو لہروں کے باعث الٹے ہوئے جہاز کے اندر داخل ہونا مشکل ہے۔ زیر آب ریسکیو مہارت رکھنے والے اہلکار بھی تیار رکھے گئے ہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں غوطہ خوری کی کارروائی محفوظ نہیں۔

حادثے کی جگہ بنجرماسین کی تریسکتی بندرگاہ کے کمانڈ سینٹر سے تقریباً 80 ناٹیکل میل، یعنی قریب 150 کلومیٹر، دور ہے۔ معمول کے موسم میں وہاں پہنچنے میں تقریباً پانچ گھنٹے لگتے ہیں، جبکہ خراب سمندری حالات میں سفر نو گھنٹے تک لے سکتا ہے۔ پیر کی دوپہر تک لاپتہ 129 افراد میں سے کسی نئے فرد کی بازیابی کی اطلاع نہیں تھی اور حکام موسم بہتر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے تلاش کا دائرہ برقرار رکھے ہوئے تھے۔

انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ Dudy Purwagandhi نے کہا کہ جہاز کی منظور شدہ گنجائش 500 مسافروں کی تھی، اس لیے ابتدائی معلومات کے مطابق یہ اوورلوڈ نہیں تھا۔ حادثے کی حتمی وجہ سے متعلق ابھی کوئی مکمل تحقیقاتی نتیجہ سامنے نہیں آیا؛ خراب موسم اور بلند لہروں کو فوری حالات کے طور پر بیان کیا گیا ہے، مگر تکنیکی یا آپریشنل ذمہ داری کے بارے میں فیصلہ تفتیش کے بعد ہی ہو سکے گا۔

انڈونیشیا ہزاروں جزائر پر مشتمل ملک ہے اور وہاں سمندری سفر روزمرہ نقل و حرکت کا اہم ذریعہ ہے۔ جاوا سمندر میں ماضی میں بھی بڑے بحری اور فضائی حادثات ہو چکے ہیں۔ موجودہ آپریشن کی اولین ترجیح لاپتہ افراد تک پہنچنا ہے، جبکہ ہلاکتوں اور زندہ بچ جانے والوں کے اعداد مزید تلاش کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔