اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹیلی فونک رابطے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور جلد ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے گفتگو میں کہا کہ شہری اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت و توانائی کی رسد پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطہ جاری رکھنے اور قریب مستقبل میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات کی حتمی تاریخ یا مقام کے بارے میں بیان میں تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اسے فی الحال دونوں قیادتوں کے درمیان طے پانے والی آئندہ سفارتی مصروفیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن فضائی حملے کے بعد عارضی طور پر بند کی گئی۔ سعودی اور عراقی حکام نے کہا تھا کہ ڈرون حملہ عراق کی سمت سے ہوا، تاہم حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی فریق نے قبول نہیں کی۔ سعودی حکام نے نقصان اور زخمیوں کی اطلاع دی، جبکہ برآمدات پر مکمل اثرات کی تفصیل فوری طور پر واضح نہیں کی گئی۔

اس کے علاوہ سعودی عرب کے جازان خطے میں حوثیوں کی جانب سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل سے دو افراد زخمی ہونے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ پاکستان نے ان حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت دہرائی ہے۔ یہ موقف پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی مذمت کے بعد اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر بھی سامنے آیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور اہم توانائی راستوں پر دباؤ نے عالمی تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے دوران تیل کی ترسیل کے لیے اہم متبادل راستہ رہی ہے۔ اس ماحول میں پاکستان اور سعودی قیادت کا رابطہ سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی اور علاقائی سفارت کاری کے تناظر میں بھی اہم ہے، تاہم مستقبل کی کسی مشترکہ کارروائی یا پالیسی فیصلے کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اضافی اعلان نہیں کیا گیا۔