پاکستان میں موبائل فون سبسکرپشنز کی تعداد 21 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل رابطوں کے مسلسل پھیلاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ عرب نیوز پاکستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ موبائل اور براڈبینڈ خدمات کے استعمال میں اضافہ جاری ہے اور ٹیلی کام نیٹ ورکس ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل رسائی کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد بھی بڑھی ہے، جبکہ ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے آپریٹرز کے نیٹ ورک پر ٹریفک میں نمایاں اضافہ کیا۔ پاکستان میں اسمارٹ فون، موبائل مالیاتی خدمات، آن لائن تعلیم، ای کامرس اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات کے بڑھتے استعمال کے باعث موبائل انٹرنیٹ کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ موبائل کنکشنز کی مجموعی تعداد منفرد افراد کی تعداد کے برابر نہیں ہوتی، کیونکہ ایک صارف ایک سے زیادہ سم یا کنکشن رکھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں ٹیلی کام شعبے کی مالی کارکردگی میں بھی بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ڈیٹا خدمات کی مانگ بڑھنے کے ساتھ آپریٹرز کی آمدن میں اضافہ ہوا، تاہم شعبے کو بلند توانائی لاگت، درآمدی آلات، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور نیٹ ورک اپ گریڈ کے اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان میں فائیو جی کے ممکنہ آغاز اور اسپیکٹرم سے متعلق پالیسی اقدامات بھی آئندہ مرحلے میں موبائل براڈبینڈ کی رفتار اور گنجائش پر اثر انداز ہوں گے۔

ڈیجیٹل رسائی میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان معیار اور رفتار کا فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ دور دراز علاقوں میں کوریج، فائبر بیک ہال، بجلی کی دستیابی اور صارفین کی قوت خرید ایسے عوامل ہیں جو انٹرنیٹ کے یکساں استعمال میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے صرف سبسکرپشنز کی تعداد کو سروس کے معیار یا ہر شہری تک قابل اعتماد انٹرنیٹ پہنچنے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

پی ٹی اے کے اعداد و شمار پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے بڑھتے حجم کا ایک اہم پیمانہ ہیں۔ موبائل رابطوں کی یہ سطح بینکاری، کاروبار، سرکاری خدمات اور آن لائن روزگار کے لیے بڑی صارف بنیاد فراہم کرتی ہے، جبکہ آئندہ پالیسی کا اہم امتحان یہ ہوگا کہ بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ نیٹ ورک معیار، قابل برداشت قیمت اور ڈیجیٹل تحفظ کو کس حد تک بہتر بنایا جاتا ہے۔