صدر آصف علی زرداری نے مون سون شجرکاری مہم 2026 کے پیغام میں کہا ہے کہ ملک بھر میں دو کروڑ پودے لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی پائیدار ترقی کے اہداف سے وابستگی دہراتے ہوئے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پائیدار زمینی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ صدر نے شہریوں سے کہا کہ اپنے علاقے کے مطابق مقامی اقسام کے پودے لگائیں اور صرف شجرکاری نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور بقا بھی یقینی بنائیں۔

مون سون درخت لگانے کے لیے موزوں دور ہو سکتا ہے کیونکہ بارش مٹی میں نمی بڑھاتی ہے اور ابتدائی آبپاشی کی ضرورت کم کر سکتی ہے۔ تاہم ہر مقام، مٹی اور بارش کا نمونہ مختلف ہے۔ مقامی نوع کا انتخاب اس لیے اہم ہے کہ وہ علاقے کے درجہ حرارت، پانی، بیماریوں اور حیاتیاتی نظام سے زیادہ مطابقت رکھ سکتی ہے۔ غیر موزوں یا زیادہ پانی مانگنے والی نوع مختصر مدت میں سبز نظر آنے کے باوجود طویل عرصے میں زندہ نہ رہ سکے یا مقامی ماحول پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

دو کروڑ کا ہدف لگائے گئے پودوں کی تعداد بتاتا ہے، کامیاب جنگل یا شہری سبزہ نہیں۔ اصل نتیجہ ایک، دو اور تین سال بعد زندہ رہنے والے درختوں، ان کی صحت، زمین کے تحفظ اور مقامی آبادی کے فائدے سے سامنے آئے گا۔ ہر پودے کے لیے مناسب جگہ، پانی، جانوروں یا تعمیر سے حفاظت، ذمہ دار نگہداشت اور خشک دور کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ سرکاری اداروں کے لیے مقام، نوع، تاریخ اور بقا کی شرح کا قابل جانچ ریکارڈ ہدف کو زیادہ معنی خیز بنا سکتا ہے۔

شجرکاری موسمیاتی تبدیلی کا واحد حل نہیں، لیکن درست جگہ پر صحت مند درخت گرمی کی شدت کم کرنے، مٹی کو محفوظ رکھنے، بارش کے پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے، حیاتیاتی تنوع اور شہری ہوا کے معیار میں مدد دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب قدرتی جنگل، چراگاہ یا آبی زمین کو صرف پودوں کی قطار سے بدلنا ہمیشہ ماحولیاتی فائدہ نہیں دیتا۔ اسی لیے بحالی میں موجود قدرتی نظام کی حفاظت اور مقامی ماہرین کی رائے شامل ہونا چاہیے۔

مہم کے اگلے قابل پیمائش مراحل میں صوبہ وار ہدف، مقام اور اقسام کی فہرست، نگہداشت کا بجٹ، ذمہ دار ادارہ اور بقا کی عوامی رپورٹ شامل ہونی چاہیے۔ شہری شرکت بھی اسی وقت مؤثر ہوگی جب لوگوں کو مقامی نرسری، درست طریقہ اور بعد کی نگہداشت کے بارے میں عملی رہنمائی ملے۔ صدر کے پیغام نے تعداد کے ساتھ بقا پر زور دیا ہے؛ مہم کی اصل کامیابی اسی بات سے طے ہوگی کہ لگائے گئے پودوں میں سے کتنے آنے والے موسموں تک صحت مند درخت بنتے ہیں۔