اسلام آباد میں نوجوانوں کی قیادت میں منعقدہ قومی پالیسی گول میز اجلاس میں پاکستان کی موسمیاتی اور آبی حکمت عملی میں نوجوانوں کو محض مشاورتی کردار دینے کے بجائے فیصلہ سازی، عمل درآمد، نگرانی اور جواب دہی کے مرحلوں میں شریک کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے نوجوانوں کی صلاحیت کو پالیسی کے عملی نتائج سے جوڑنے کی ضرورت بیان کی۔

پاکستان کو بڑھتے درجہ حرارت، پانی کی کمی، غیر یقینی بارشوں، شہری دباؤ اور زرعی خطرات کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا اثر نوجوانوں کی تعلیم، روزگار، صحت اور مستقبل کی آمدنی پر براہ راست پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے اجلاس میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ نوجوانوں کے لیے موسمیاتی پالیسی الگ موضوع نہیں، بلکہ معاشی ترقی، ہنر، توانائی اور مقامی منصوبہ بندی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

گفتگو میں سبز مہارتوں کی تربیت، موسمیاتی تعلیم اور تحقیق کو اہم ستون قرار دیا گیا۔ وزیر نے کلائمیٹ یونیورسٹی کے تصور اور ماحول دوست کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی کا ذکر کیا۔ مقصد یہ ہے کہ نوجوان صرف خطرات سے آگاہ نہ ہوں بلکہ قابل تجدید توانائی، پانی کی بچت، فضلہ کم کرنے، زرعی جدت اور مقامی موافقت کے منصوبوں میں روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی حاصل کریں۔

اجلاس میں حکومت، جامعات، تحقیقی اداروں، نجی شعبے اور نوجوان تنظیموں کے درمیان مستقل شراکت کی ضرورت پر بات ہوئی۔ موسمیاتی منصوبے اس وقت زیادہ مؤثر ہوتے ہیں جب مقامی آبادی کے تجربات کو منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔ نوجوان اپنے اضلاع میں پانی کے استعمال، درختوں کی بقا، گرمی کی لہروں اور سیلابی خطرات سے متعلق معلومات جمع کرنے اور نتائج کی نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں۔

خواتین اور کمزور طبقوں کی شمولیت پر بھی زور دیا گیا، کیونکہ موسمیاتی اثرات ہر فرد پر یکساں نہیں پڑتے۔ دیہی خواتین، کم آمدنی والے خاندان اور پانی کی کمی سے متاثرہ علاقے اضافی دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ پالیسی میں ان کی آواز شامل کرنے سے وسائل کی تقسیم اور منصوبوں کی ترجیحات زیادہ حقیقت پسندانہ بن سکتی ہیں۔

گول میز اجلاس کسی مخصوص بجٹ یا نئے قانون کا حتمی اعلان نہیں تھا۔ اس کی اہمیت پالیسی کی سمت متعین کرنے میں ہے: نوجوانوں کو مستقبل کے متاثرین کے بجائے موجودہ شراکت دار سمجھا جائے۔ اگلا عملی مرحلہ یہ ہوگا کہ بیان کردہ اہداف کو قابل پیمائش منصوبوں، واضح ذمہ داریوں اور باقاعدہ پیش رفت رپورٹوں میں تبدیل کیا جائے تاکہ شمولیت علامتی نہ رہے۔