اسلام آباد/ماسکو: پاکستان افغانستان سے متعلق آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورت میں 5 اکتوبر کو شرکت کر رہا ہے، جہاں علاقائی سلامتی، سیاسی و اقتصادی امور کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ دفتر خارجہ نے ایک روز قبل تصدیق کی تھی کہ پاکستان کا وفد ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوگا۔

دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق اور کابل میں پاکستان کے سفیر اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ ماسکو فارمیٹ روس کی قیادت میں قائم علاقائی مشاورتی طریقہ کار ہے جس کا آغاز 2016 میں ہوا تھا اور اس میں افغانستان کے علاوہ خطے کے اہم ممالک سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں افغانستان، روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ حالیہ مشاورت ایسے وقت ہو رہی ہے جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں عسکریت پسندی اور سرحد پار سکیورٹی کے معاملات پر تناؤ بڑھا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے جگہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکام ان الزامات کی تردید کرتے اور پاکستانی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے رہے ہیں۔

روس کے خصوصی صدارتی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع ماسکو اجلاس میں زیر بحث آ سکتا ہے اور روس اس پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں فریقوں کو قابل قبول سمجھوتے کی طرف لانے کی کوشش کے لیے تیار ہے۔ یہ روسی مؤقف ثالثی یا کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں بلکہ مذاکراتی سہولت کی پیشکش ہے۔

ماسکو فارمیٹ کے سابق اجلاسوں میں دہشت گردی، علاقائی سلامتی، افغانستان کی اقتصادی صورت حال اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مرکزی موضوعات رہے ہیں۔ موجودہ اجلاس میں بھی ان شعبوں پر بات چیت متوقع ہے، تاہم اجلاس کے آغاز سے پہلے کسی مشترکہ اعلامیے، پاکستان افغانستان معاہدے یا کشیدگی میں کمی کے باضابطہ فارمولے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

پاکستان کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد افغانستان سے متعلق دوطرفہ رابطوں کے ساتھ علاقائی فورمز کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ماسکو اجلاس کا عملی نتیجہ شریک ممالک کے مشترکہ بیان اور بعد میں ہونے والے سفارتی رابطوں سے واضح ہوگا۔ کسی بھی فریق کے دعووں، خصوصاً سرحد پار عسکریت پسندی سے متعلق الزامات، کو حتمی عدالتی یا آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ سمجھنے کے بجائے متعلقہ حکومتوں کے مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔