پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سفارتی و دفاعی حکام مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس کے لیے ریاض میں جمع ہو رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شریک ہوں گے۔ تینوں ممالک کے نمائندے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیں گے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی شرکت علاقائی امن و استحکام میں کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال، یمن کا تنازع اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی علاقائی سفارت کاری کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ رائٹرز نے ترک وزارت خارجہ کے حوالے سے بھی 5 اکتوبر کو ریاض میں اس کمیٹی کے اجلاس کی تصدیق کی اور بتایا کہ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور اعلیٰ عسکری قیادت شرکت کرے گی۔ اس سے اجلاس کے سہ فریقی اور اعلیٰ سطحی دفاعی کردار کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک کمیٹی کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سیاسی اور دفاعی مشاورت کو منظم کرنا ہے۔ تاہم اجلاس سے پہلے جاری سرکاری بیانات میں کسی نئے فوجی آپریشن، مشترکہ تعیناتی یا مخصوص دفاعی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے ممکنہ نتائج کے بارے میں قیاس آرائی کے بجائے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ یا قومی بیانات اہم ہوں گے۔ پاکستان نے اپنی شرکت کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
