استنبول/ریاض: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حوثی فورسز کے زیر قبضہ علاقوں واپس لینے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام مکہ دفاعی اتحاد کے تحت ریاض میں ہنگامی اجلاس کے لیے جمع ہو رہے ہیں، جس میں حوثی حملوں اور خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال پر توجہ مرکوز رہنے کی توقع ہے۔

یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اعلان کیا کہ سرکاری فورسز باقی علاقوں میں ریاستی عملداری بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائیاں شروع کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے امکانات ختم ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ یہ یمنی حکومت کا موقف ہے؛ میدان جنگ میں مختلف فریق اپنے نقصانات اور کامیابیوں کے بارے میں الگ الگ دعوے کر رہے ہیں۔

ڈان کی رپورٹ، جس میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی معلومات بھی شامل ہیں، کے مطابق تعز اور اس کے آس پاس شدید لڑائی ہوئی۔ دونوں جانب کے ذرائع نے ایک دن میں 70 سے زیادہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار بتائے، تاہم جنگی حالات میں فریقین کے دعووں کی آزادانہ تصدیق محدود ہو سکتی ہے۔ حوثیوں نے اہم راستوں پر پیش قدمی اور سعودی اہداف پر میزائل و ڈرون حملوں کے دعوے کیے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

علاقائی سفارتی سطح پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے کہہ چکے ہیں کہ مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں پر توجہ دے گا۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں خطے کی تازہ صورتحال اور اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کے عمل پر بھی گفتگو ہوگی۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف سمیت ترک وفد کی شرکت بتائی گئی ہے، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے حکام بھی اجلاس کا حصہ ہوں گے۔ اس فورم کا مقصد فوری سکیورٹی صورتحال کے ساتھ دفاعی تعاون کے طریقہ کار پر مشاورت کرنا ہے۔

یمن میں تازہ کارروائی باب المندب اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں کی وجہ سے وسیع تر بین الاقوامی اہمیت رکھتی ہے۔ حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور سعودی عرب کے ساتھ حملوں کے تبادلے نے بحری نقل و حمل اور علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ موجودہ مرحلے پر فوجی کارروائی کے نتائج یا کسی سیاسی تصفیے کے امکانات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔