اسلام آباد/ریاض: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کا اجلاس پیر کو ریاض میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور تینوں رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اجلاس اور پاکستانی وفد کی شرکت کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ آصف شامل ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے بھی وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت اجلاس میں شریک ہوگی۔ ترکی نے بھی اپنے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتار اوغلو کی شرکت کی تصدیق کی ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اجلاس میں خطے کی تازہ پیش رفت اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان نے اپنی شرکت کو علاقائی امن و استحکام میں کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار قرار دیا ہے۔ اسحاق ڈار اجلاس سے قبل مدینہ پہنچے، جہاں انہوں نے مسجد نبوی میں حاضری دی، اور بعد ازاں ریاض روانہ ہوئے۔
یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں پر توجہ دی جائے گی۔ خطے میں یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے بھی حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے نئی فوجی مہم کا اعلان کیا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔ اس کا بنیادی اصول اجتماعی دفاع ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ SPDC کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا، جہاں اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر پیش رفت کی گئی۔
موجودہ اجلاس سے متعلق کسی نئی فوجی کارروائی یا مشترکہ آپریشن کا حتمی فیصلہ ابھی رپورٹ نہیں ہوا۔ اس لیے اجلاس کو پالیسی، علاقائی صورتحال اور تعاون کے جائزے کے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ فیصلوں کی نوعیت اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے یا رکن ممالک کے باضابطہ بیانات سے واضح ہوگی۔

