اسلام آباد: پاکستان سے بیرون ملک جانے والے متعلقہ مسافروں، بالخصوص عمرہ زائرین، کے لیے نادرا سے منسلک ڈیجیٹل ویکسینیشن ثبوت کی نئی شرط 14 ستمبر کے بعد نافذ ہونے جا رہی ہے۔ بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کے تحت ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں۔
بزنس ریکارڈر اور ڈان کی رپورٹس کے مطابق 7 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن میں پولیو، میننجائٹس، یلو فیور اور انفلوئنزا کی ویکسینیشن سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ کا ذکر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق 14 ستمبر کے بعد مقررہ نادرا انٹیگریٹڈ ثبوت کے بغیر متعلقہ مسافروں کو سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دوسرے ویکسینیشن کارڈ قابل قبول نہیں ہوں گے۔
ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ان کے ٹریول ایجنٹس عمرہ زائرین کو نئی شرط کے بارے میں پیشگی آگاہ کریں۔ مسافر مجاز ویکسینیشن مراکز سے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی روانگی کے مقامات پر بھی ویکسینیشن اور آن لائن اندراج کی سہولت فراہم کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
جو مسافر ایئرپورٹ پر ویکسین لگوانا چاہتے ہیں انہیں پرواز سے کم از کم چھ گھنٹے پہلے پہنچنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ ویکسینیشن اور ڈیجیٹل اندراج کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ اس ہدایت کا مقصد روانگی کے وقت دستاویزی مسائل اور بورڈنگ میں رکاوٹ سے بچنا ہے۔
نئی شرط میں نادرا سے منسلک ریکارڈ پر زور اس لیے دیا گیا ہے کہ ویکسینیشن کی تصدیق ایک معیاری ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہو سکے۔ تاہم مختلف منزلوں کے ممالک اپنی الگ صحت اور داخلہ شرائط بھی نافذ کر سکتے ہیں، اس لیے مسافروں کو پاکستانی روانگی کی شرط کے ساتھ اپنی منزل کے تازہ قواعد بھی دیکھنے چاہئیں۔
دستیاب رپورٹس میں نفاذ کی تاریخ اور نادرا انٹیگریٹڈ ثبوت کی شرط واضح ہے۔ بعض خبروں میں دائرۂ کار کو عمرہ و حج زائرین کے حوالے سے نمایاں کیا گیا ہے جبکہ دیگر میں بین الاقوامی مسافروں کا وسیع تر ذکر موجود ہے۔ اس لیے کسی مخصوص مسافر کے لیے قابل اطلاق ویکسین اور دستاویز کی حتمی تفصیل متعلقہ ایئرلائن، بارڈر ہیلتھ سروسز اور منزل کے ملک کی سرکاری ہدایات سے تصدیق کرنا ضروری ہوگا۔




