اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اسکیم کے تحت اہل صارفین کو مقررہ ماہانہ کوٹے پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف دیا جائے گا۔
ڈان کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں، جن میں موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی شامل ہیں، کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک رعایتی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک یہی ریلیف دستیاب ہوگا۔ اس طرح اسکیم کا مقصد نسبتاً کم ایندھن استعمال کرنے والے اور روزمرہ آمدورفت کے لیے چھوٹی گاڑیوں پر انحصار کرنے والے طبقات پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم کرنا بتایا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق اسکیم اسلام آباد میں 15 ستمبر کی رات 12 بجے سے نافذ ہوگی، جبکہ باقی ملک، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 17 ستمبر کی رات 12 بجے سے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ رجسٹریشن کا عمل 13 ستمبر سے شروع کر دیا گیا ہے اور طریقۂ کار عوام تک ایک آگاہی مہم کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے میں تعاون کیا۔ حکومتی بیان میں مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو اس فوری اقدام کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ریلیف اسکیم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے چند روز قبل پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ اس پس منظر میں نئی اسکیم کا مالی اور انتظامی ڈھانچہ اہم ہوگا، کیونکہ اس میں صارف کی اہلیت، گاڑی کی تصدیق، ماہانہ کوٹے کی نگرانی اور رعایت کی عملی فراہمی کے لیے مرکزی اور صوبائی ڈیٹا کے باہمی استعمال کی ضرورت ہوگی۔
تاحال دستیاب سرکاری بیان میں رجسٹریشن کے تفصیلی تکنیکی مراحل، ادائیگی یا رعایت کے حتمی طریقۂ کار اور اسکیم کی مجموعی مالی لاگت کی مکمل تفصیل شامل نہیں ہے۔ اس لیے ان امور سے متعلق مزید وضاحت متعلقہ سرکاری اداروں کی آئندہ ہدایات سے سامنے آئے گی۔ تاہم اعلان کے مطابق ریلیف کی شرح، اہل گاڑیوں کی اقسام، ماہانہ کوٹے اور مختلف علاقوں میں نفاذ کی تاریخیں واضح کر دی گئی ہیں۔




