کراچی: پاکستان رینجرز (سندھ) اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی سندھ نے کراچی کے گل بائی، شیر شاہ علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کی، جس میں حکام کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک مطلوب شخص فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔
ایکسپریس ٹریبیون نے سندھ رینجرز کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت قاری ضیاء الرحمن عرف قاری سیف اللہ کے نام سے ہوئی، جو باجوڑ، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتا تھا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی اس اطلاع پر کی گئی کہ مذکورہ شخص شیر شاہ کے علاقے میں موجود ہے۔ رینجرز کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
رینجرز ترجمان نے دعویٰ کیا کہ قاری ضیاء الرحمن مختلف اوقات میں پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور کے کیمپوں سمیت سکیورٹی تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ ترجمان کے مطابق اس نے 2006 میں کالعدم تنظیم کے ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں باجوڑ میں تربیت حاصل کی۔ ان الزامات اور سابقہ سرگرمیوں کی تفصیل حکام کے بیان پر مبنی ہے اور آزادانہ عدالتی کارروائی یا حتمی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتی۔
سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ شخص 2012 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران افغانستان چلا گیا تھا، جہاں بعد میں مزید تربیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رینجرز کے مطابق وہ حالیہ عرصے میں دوبارہ کراچی آیا تھا اور حساس مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے نیٹ ورک منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سندھ میں رینجرز کی تعیناتی اور پولیسنگ اختیارات میں ایک سال کی توسیع کی جا چکی ہے۔ سندھ اسمبلی نے حال ہی میں رینجرز کی تعیناتی 20 جولائی 2026 سے 19 جولائی 2027 تک بڑھانے کی منظوری دی تھی۔ صوبائی حکام نے اس فیصلے کو امن و امان اور کالعدم تنظیموں سے لاحق خطرات کے تناظر میں ضروری قرار دیا تھا۔
جون میں کراچی میں رینجرز کی ایک تنصیب پر حملہ بھی ہوا تھا، جس میں تین رینجرز اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں اور مشتبہ نیٹ ورکس کی نگرانی میں اضافہ کیا گیا۔ موجودہ کارروائی کے بارے میں دستیاب معلومات بنیادی طور پر سندھ رینجرز کے سرکاری مؤقف پر مشتمل ہیں؛ مزید تفصیل یا فرانزک و تفتیشی نتائج سامنے آنے پر واقعے کی نوعیت کے بارے میں تصویر مزید واضح ہو سکتی ہے۔




