وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ قومی ماہی گیری و آبی زراعت پالیسی پر کام جاری ہے جس کا مقصد مناسب پالیسیوں کے ذریعے شعبے کی دس ارب ڈالر تک ممکنہ معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔ دی نیشن کے مطابق انہوں نے وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کی کارکردگی اور منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر نے بحری شعبے میں کاروبار آسان بنانے کے لیے طریقہ کار سادہ کرنے اور صنعت، کاروباری اداروں اور دوسرے متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ سمندری معیشت سے متعلق پالیسیوں میں کاروباری تجاویز شامل کی جائیں۔ دس ارب ڈالر کا ہندسہ پالیسی کے ذریعے حاصل ہونے والی ممکنہ صلاحیت کے طور پر بیان ہوا ہے، موجودہ آمدن یا ضمانت شدہ نتیجہ نہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خدمت مراکز کی طرز پر ون ونڈو آپریشن قائم کرنے کا کام مکمل کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد کاروباری برادری کو متعدد سرکاری خدمات ایک جگہ فراہم کرنا، تاخیر کم کرنا اور سرمایہ کاروں کی رسائی بہتر بنانا ہے۔ سہولت کے عملی آغاز، شامل خدمات اور درخواست کے طریقے کی مکمل تفصیل رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

گوادر پورٹ پر ایک سو ایکڑ کے آف ڈاک ٹرمینل کی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ حکومت کے مطابق یہ ٹرمینل وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت، کارگو ہینڈلنگ اور علاقائی رسد کو بہتر بنا سکتا ہے۔ منصوبے کی لاگت، تکمیل کی تاریخ اور آپریٹنگ ماڈل اس خبر میں شامل نہیں، اس لیے ان کے بارے میں قیاس نہیں کیا جا رہا۔

سمندری حیاتیاتی تنوع اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے گلوبل انوائرنمنٹ فیسلٹی کی معاونت سے تین ملین ڈالر کے منصوبے کا ذکر بھی ہوا۔ اس کا مقصد حیاتیاتی تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کو فروغ دینا ہے۔ وزیر نے زور دیا کہ بحری معاشی ترقی ساحلی ماحول کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھے۔

اجلاس میں تجاوزات سے واگزار کرائی گئی بندرگاہی زمین کے مفید استعمال کے لیے جامع منصوبہ طلب کیا گیا۔ اردو ہیڈ لائنز قومی پالیسی کے مسودے، ون ونڈو سہولت کے آغاز، گوادر ٹرمینل کی ٹائم لائن اور حیاتیاتی منصوبے کی عملی تفصیلات جاری ہونے پر اسی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔