پاکستان میں حساس قیمت اشاریے سے ناپی جانے والی ہفتہ وار مہنگائی میں حالیہ ہفتے کے دوران 0.49 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیاد پر شرح 9.66 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایکسپریس اردو نے یہ اعداد وفاقی ادارۂ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے حوالے سے شائع کیے ہیں۔ اشاریے میں ایک ہی ہفتے کے اندر کچھ ضروری اشیا مہنگی اور کچھ سستی ہوئیں، اس لیے مجموعی شرح ہر چیز کی یکساں سمت ظاہر نہیں کرتی۔

رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر پیاز کی قیمت 14.17 فیصد بڑھی۔ پیٹرول 3.77 فیصد، مرغی کا گوشت 3.35 فیصد، لہسن دو فیصد اور چنے کی دال 0.63 فیصد مہنگی ہوئی۔ یہ فیصد قومی سطح کے اشاریے میں شامل اوسط تبدیلیاں ہیں؛ کسی مخصوص شہر، دکان یا برانڈ کی قیمت ان سے مختلف ہوسکتی ہے۔

اسی ہفتے کچھ اشیا میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ انڈے 5.78 فیصد، ڈیزل 5.15 فیصد اور ٹماٹر 4.99 فیصد سستے ہوئے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی سمت میں فرق اس ہفتے کے مجموعی اخراجات پر مختلف اثر ڈال سکتا ہے، خصوصاً ان گھرانوں اور کاروباروں کے لیے جو نجی سفر، مال برداری یا زرعی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ رپورٹ نے خانوار یا شعبہ وار اثر کا الگ تخمینہ جاری نہیں کیا۔

سالانہ موازنہ میں پیاز 132.52 فیصد، ٹماٹر 93.21 فیصد، گندم کا آٹا 62.25 فیصد، ایل پی جی 51.69 فیصد اور ڈیزل 33.08 فیصد مہنگا بتایا گیا۔ یہ تبدیلیاں پچھلے سال کے اسی عرصے کی قیمتوں کے مقابلے میں ہیں، نہ کہ صرف گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں۔ بلند سالانہ فیصد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بازار میں قیمت عین اسی تناسب سے بدلی، بلکہ یہ سرکاری نمونے میں ناپا گیا مجموعی رجحان ہے۔

دوسری جانب سالانہ بنیاد پر آلو 30.01 فیصد، چینی 19.10 فیصد، مرغی کا گوشت 17.68 فیصد اور انڈے 17.41 فیصد سستے ریکارڈ ہوئے۔ ایک ہی شے، جیسے مرغی، ہفتہ وار بنیاد پر مہنگی مگر سالانہ بنیاد پر سستی ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں موازنوں کے ابتدائی ادوار مختلف ہیں۔ صارفین کے لیے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہفتہ وار اور سالانہ اعداد کو آپس میں خلط نہ کیا جائے۔

وفاقی ادارۂ شماریات کا حساس قیمت اشاریہ قلیل مدت میں ضروری اشیا کی قیمتوں کی سمت دکھاتا ہے، مگر کسی گھر کا حقیقی بجٹ اس کی آمدن، شہر، خریداری کے انداز اور استعمال ہونے والی اشیا پر منحصر ہوتا ہے۔ اردو ہیڈ لائنز نے صرف رپورٹ شدہ فیصد اور ان کی درست مدت بیان کی ہے؛ مستقبل کی مہنگائی یا پالیسی کے اثرات کے بارے میں کوئی پیش گوئی شامل نہیں۔ اگلی سرکاری ہفتہ وار رپورٹ آنے پر رجحان کا نیا موازنہ ممکن ہوگا۔