اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعہ 21 اگست کو روایتی اور شریعہ مطابق اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 2 ہزار 850 ارب 55 کروڑ روپے کی لیکویڈیٹی مالی منڈی میں فراہم کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق مرکزی بینک نے ریورس ریپو خریداری اور مضاربہ پر مبنی آپریشن سات اور چودہ روز کی مدت کے لیے کیے۔
روایتی ریورس ریپو آپریشن میں مجموعی طور پر 2 ہزار 410 ارب 55 کروڑ روپے قبول کیے گئے۔ چودہ روزہ مدت کے لیے 11 بولیوں میں 2 ہزار 322 ارب 65 کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی اور تمام رقم 11.51 فیصد شرح منافع پر قبول کی گئی۔ سات روزہ مدت میں تین بولیوں کی 87 ارب 90 کروڑ روپے کی پوری رقم 11.54 فیصد پر قبول ہوئی۔
شریعہ مطابق مضاربہ آپریشن میں سات روزہ مدت کے لیے کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔ چودہ روزہ مدت کے لیے آٹھ پیشکشوں میں 597 ارب 50 کروڑ روپے مانگے گئے، جن میں سے اسٹیٹ بینک نے 440 ارب روپے 11.52 فیصد شرح پر قبول کیے۔ اسی شرح پر پیش کردہ 246 ارب روپے میں سے 88 ارب 50 کروڑ روپے تناسبی بنیاد پر لیے گئے۔
اوپن مارکیٹ آپریشن بینکاری نظام میں قلیل مدتی نقدی کی ضرورت اور شرحوں کے انتظام کا مالیاتی ذریعہ ہے۔ یہ رقم وفاقی بجٹ کی گرانٹ، کاروباروں کو براہ راست قرض یا مستقل سرکاری اخراجات نہیں۔ مدت پوری ہونے پر لین دین اپنی طے شدہ شرائط کے مطابق واپس یا تصفیہ ہوتا ہے، اس لیے مجموعی عدد کو مستقل نئی رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
قبول شدہ شرحوں کا محدود فرق اس دن کی مختلف مدت اور شریعہ مطابق ڈھانچے کی قیمت ظاہر کرتا ہے۔ تاہم ایک آپریشن سے مہنگائی، قرضوں کی عمومی شرح یا پورے معاشی رجحان پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے پالیسی ریٹ، بینکوں کی طلب، حکومتی قرض گیری اور متعدد مسلسل آپریشنز کے اعداد دیکھنا ضروری ہوگا۔
اردو ہیڈ لائنز نے رقم، مدت، بولیوں اور قبول شدہ شرحوں کو 21 اگست کے مخصوص آپریشن تک محدود رکھا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اگلے اوپن مارکیٹ آپریشن یا پالیسی فیصلے کو الگ تاریخ اور الگ خارجی شناخت کے ساتھ رپورٹ کیا جائے گا تاکہ روزانہ مالیاتی کارروائیاں خلط نہ ہوں۔




