پاکستان کی گوشت اور گوشت کی تیار مصنوعات سے برآمدی آمدن رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی 2026 میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.20 فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد پر مبنی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق آمدن 4 کروڑ 4 لاکھ 49 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 4 کروڑ 70 لاکھ 1 ہزار ڈالر ہوگئی۔
برآمدی مقدار اس دوران 9 ہزار 141 میٹرک ٹن سے کم ہوکر 8 ہزار 983 میٹرک ٹن رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیت میں اضافہ مقدار کے اضافے سے نہیں آیا؛ فی یونٹ قیمت، مصنوعات کی ترکیب یا منڈیوں کے فرق نے کردار ادا کیا ہوسکتا ہے، لیکن موجودہ اعداد ان عوامل کی الگ تقسیم فراہم نہیں کرتے۔ اس لیے وجہ کو قطعی طور پر کسی ایک عنصر سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کی آمدن میں معمولی اضافہ ہوا۔ جولائی 2026 میں 11 ہزار 568 میٹرک ٹن برآمد کرکے 2 کروڑ 25 لاکھ 44 ہزار ڈالر کمائے گئے، جبکہ جولائی 2025 میں 11 ہزار 738 ٹن سے 2 کروڑ 24 لاکھ 47 ہزار ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ مقدار کم اور مالیت قدرے زیادہ رہی۔
چاول کی برآمدی مالیت 19.15 فیصد بڑھ کر 19 کروڑ 99 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہوئی اور مقدار 3 لاکھ 46 ہزار 24 میٹرک ٹن رہی۔ تمباکو کی آمدن 72.55 فیصد بڑھ کر 68 لاکھ 61 ہزار ڈالر، مصالحہ جات 9.95 فیصد بڑھ کر 74 لاکھ 26 ہزار ڈالر، جبکہ تیل دار بیجوں اور گری دار میووں کی برآمدی مالیت 493.70 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 48 لاکھ 98 ہزار ڈالر رپورٹ ہوئی۔
مجموعی غذائی برآمدات 2.47 فیصد بڑھ کر 43 کروڑ 70 لاکھ 78 ہزار ڈالر رہیں۔ اسی مہینے غذائی درآمدات 80 کروڑ 54 لاکھ 47 ہزار ڈالر رپورٹ ہوئیں، جو گزشتہ سال کے 74 کروڑ 49 لاکھ 74 ہزار ڈالر سے زیادہ ہیں۔ یہ دونوں اعداد مل کر غذائی تجارت کی سمت دکھاتے ہیں، مگر پورے مالی سال کا نتیجہ صرف ایک مہینے سے طے نہیں کیا جاسکتا۔
اردو ہیڈ لائنز نے اعداد کو جولائی 2026 کی سال بہ سال موازنہ رپورٹ تک محدود رکھا ہے۔ آئندہ مہینوں میں مقدار، قیمت اور منڈیوں کی تفصیل سامنے آنے سے یہ واضح ہوگا کہ گوشت کی برآمدی مالیت میں اضافہ مستقل رجحان ہے یا ایک ماہ کی قیمت و مصنوعات کے امتزاج کا اثر۔




