اسلام آباد: وفاقی وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات نے UN-Habitat پاکستان کے تعاون سے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 متعارف کرا دی ہے، جو تقریباً 25 سال بعد ملک کے قومی رہائشی فریم ورک کی بڑی تازہ کاری ہے۔ پالیسی کی تقریب نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد میں ہوئی، جہاں وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات میاں ریاض حسین پیرزادہ نے دستاویز پیش کی۔ وزارت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق وفاقی کابینہ اس پالیسی کی منظوری پہلے ہی دے چکی تھی اور سابقہ قومی ہاؤسنگ پالیسی 2001 میں منظور ہوئی تھی۔
وزارت کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ملک میں مناسب، قابل استطاعت اور پائیدار رہائش تک رسائی بڑھانے کے لیے ایک متحد قومی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ اس میں زمین برائے رہائش، ہاؤسنگ فنانس، تعمیراتی خدمات، ٹیکنالوجی و تعمیراتی مواد، درمیانے اور ثانوی شہروں کی ترقی، کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں، کم آمدنی و کم لاگت رہائش، دیہی رہائش، اور ادارہ جاتی صلاحیت و علم کے تبادلے سمیت نو اہم موضوعاتی شعبے شامل کیے گئے ہیں۔
ڈان کے مطابق سرکاری اندازے میں پاکستان کو تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ رہائشی یونٹس کی کمی کا سامنا ہے۔ وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ پالیسی کا ایک اہم ہدف سستی رہائش کی فراہمی بڑھانا، زمین کے حق اور ملکیت سے متعلق تحفظ بہتر بنانا، ہاؤسنگ فنانس تک رسائی وسیع کرنا اور غیر رسمی بستیوں کی اپ گریڈیشن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی کی اصل آزمائش اس کے عملی نفاذ، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور کم و متوسط آمدنی والے خاندانوں تک فائدہ پہنچانے میں ہوگی۔
حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کو بھی پالیسی کے ایک عملی جزو کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزیر کے مطابق پہلے گھر کے خریداروں کو اس پروگرام کے تحت اب تک 65 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے تقریب میں رہائش کو موسمیاتی مزاحمت، پائیدار شہری ترقی اور قومی منصوبہ بندی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ نئی رہائشی حکمت عملی بڑھتی ہوئی ہاؤسنگ کمی کو کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
UN-Habitat پاکستان کے نمائندے نے رہائش کو صرف چھت کی فراہمی نہیں بلکہ وقار، بنیادی سہولتوں، معاشی مواقع اور محفوظ کمیونٹیز سے جڑا معاملہ قرار دیا۔ نئی پالیسی کا اجرا عالمی یومِ مسکن 2026 کے موقع پر ہوا۔ اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ پالیسی کے اہداف کو صوبائی و مقامی سطح پر زمین، فنانسنگ، بنیادی ڈھانچے اور شہری منصوبہ بندی کے قابل پیمائش اقدامات میں کس رفتار سے تبدیل کیا جاتا ہے۔
