اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کمیٹی نے قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لیے دوسرے اجلاس میں ضابطہ جاتی، ٹیکس، قانونی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق فریم ورک کا مقصد پاکستانی کاروباروں کے لیے طویل مدتی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ تک رسائی بہتر بنانا ہے، لیکن پالیسی ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور اجلاس میں زیر غور نکات کو نافذ شدہ قواعد نہیں سمجھا جاسکتا۔
کمیٹی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زیر غور ان تجاویز پر بات کی جو بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز جیسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی پرائیویٹ ایکویٹی میں شرکت، سرمایہ لگانے، منافع یا اصل رقم کی بیرون ملک منتقلی اور سرمایہ کاری سے اخراج کو آسان بنا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی بینکاری احتیاطی ضوابط، بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات اور مناسب اکاؤنٹنگ سلوک برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ٹیکس سے متعلق گفتگو میں ’’ٹیکس نیوٹرلٹی‘‘ کے اصول کا جائزہ لیا گیا۔ اس تصور کے تحت سرمایہ جمع کرنے والی فنڈ ساخت خود اضافی ٹیکس کی تہہ نہ بنے، جبکہ اصل آمدن حاصل کرنے والے فرد یا ادارے پر قابل اطلاق ٹیکس برقرار رہے۔ کمیٹی نے فنڈز کے لیے موجودہ آمدن تقسیم کرنے کی شرائط اور حقیقی سرمایہ کاری میں سہولت کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا، مگر یہ بھی واضح کیا کہ ٹیکس فرق سے فائدہ اٹھانے، مصنوعی ڈھانچے بنانے یا ٹیکس بنیاد کم کرنے کے راستے بند ہونے چاہئیں۔ رجسٹریشن، افشا اور انسدادِ اجتناب تحفظات کو مجوزہ نظام کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔
نجی کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت میں کیپیٹل گین کے ٹیکس اور کمپنی کی قدر متعین کرنے کے طریقوں پر بھی بحث ہوئی۔ ارکان نے ایسا نظام بنانے کی ضرورت بیان کی جو جائز سرمایہ کاری اور اخراج کو غیر ضروری طور پر مشکل نہ بنائے، لیکن حصص کی قیمت جان بوجھ کر کم دکھانے یا دیگر ممکنہ غلط استعمال کے خلاف مؤثر نگرانی فراہم کرے۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پرائیویٹ ایکویٹی ویلیوایشن طریقوں سے رہنمائی لینے کی تجویز زیر غور آئی۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل کے قانونی و ضابطہ جاتی ڈھانچے پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت کے مطابق واضح قواعد فنڈ منیجرز اور سرمایہ کاروں کو زیادہ یقین فراہم کرسکتے ہیں اور مقامی فنڈ مینجمنٹ صلاحیت پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مقصد محض نئی مالی ساختیں رجسٹر کرنا نہیں بلکہ حقیقی سرمایہ کو کاروباری نمو، روزگار اور پیداواری شعبوں تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ یہ متوقع فوائد پالیسی کا مقصد ہیں؛ ان کا حصول حتمی ضوابط اور سرمایہ کاری کے عملی بہاؤ سے مشروط ہوگا۔
اجلاس میں پاکستان کی تین ارب ڈالر کی دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ اجرا کا بھی ذکر ہوا اور کمیٹی نے اسے عالمی سرمایہ کاروں کی شرکت کے تناظر میں نوٹ کیا۔ تاہم قرض کی منڈی میں بانڈ اجرا اور نجی کمپنیوں میں ایکویٹی سرمایہ کاری الگ مالی ذرائع ہیں۔ حکومت نے عالمی سرمائے کی حالیہ دلچسپی کو ایک سازگار پس منظر قرار دیا، نہ کہ مجوزہ پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک کے تحت پہلے سے حاصل شدہ سرمایہ۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ریگولیٹری، ٹیکس اور قانونی ورک اسٹریمز اپنی سفارشات میں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں اور باقی تکنیکی مسائل حل کرکے جامع قومی فریم ورک دوبارہ پیش کریں۔ کسی حتمی منظوری، نفاذی تاریخ یا مخصوص ٹیکس شرح کا اعلان نہیں کیا گیا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت کمیٹی کا دوسرا اجلاس، مختلف پالیسی راستوں کا جائزہ اور حفاظتی ضوابط کے ساتھ مرحلہ وار فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت ہے۔




