وفاقی حکومت نے مبینہ طور پر سائبر فراڈ اور دوسری غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں میں ملوث کال سینٹرز کے خلاف ملک گیر کارروائی کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دی نیشن اور بزنس ریکارڈر کے مطابق ٹاسک فورس مختلف علاقوں میں کام کرنے والے مراکز کی نشاندہی، تحقیقات اور مربوط کارروائی کرے گی، جبکہ روزانہ کی پیش رفت وزارت داخلہ کو بھیجی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق ٹاسک فورس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے، قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی، متعلقہ سکیورٹی و ضابطہ جاتی اداروں، وفاقی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اس کا مرکزی رابطہ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں ہوگا۔ مختلف اداروں کی شمولیت کا مقصد ڈیجیٹل ثبوت، مالی لین دین، ٹیلی مواصلاتی ریکارڈ اور زمینی کارروائی کو ایک ہی نظام میں مربوط کرنا بتایا گیا ہے۔

تحقیقات کا دائرہ بھتہ خوری، بلیک میلنگ، جوئے، آن لائن اسکیم، مالی فراڈ اور غیر اخلاقی مواد سے متعلق الزامات تک پھیلا ہوا بتایا گیا ہے۔ یہ سب الزامات اور زیرِتحقیق دعوے ہیں؛ کسی کال سینٹر، مالک یا ملازم کو عدالت کے فیصلے سے پہلے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قانونی کال سینٹر اور رجسٹرڈ سافٹ ویئر کاروبار اس خبر کی عمومی اصطلاح کی بنیاد پر غیر قانونی نہیں بن جاتے۔

حکام نے کراچی میں کام کرنے والے کال سینٹرز کی ایک فہرست تیار کرنے اور متعلقہ اداروں کو ٹاسک فورس سے تعاون کی ہدایت دینے کی اطلاع دی ہے۔ رپورٹ میں فہرست کے نام، جانچ کا معیار اور کارروائی کی مکمل زمانی ترتیب عوامی طور پر بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے کسی ادارے کا نام غیر مصدقہ سوشل میڈیا فہرست سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

یہ فیصلہ اسلام آباد میں ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر حالیہ کارروائی کے بعد سامنے آیا، جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری حراست میں لیے گئے تھے۔ ان افراد کے مقدمات، رہائشی دستاویزات اور مبینہ سائبر سرگرمیوں کی قانونی حیثیت الگ تحقیق اور عدالتی عمل سے طے ہوگی۔ موجودہ ملک گیر کارروائی کو ہر گرفتار شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

کارروائی کی کامیابی کے لیے قانونی کاروبار اور مجرمانہ نیٹ ورک میں واضح فرق، ڈیجیٹل شواہد کا محفوظ طریقہ، ملزمان کے قانونی حقوق اور بین الاقوامی تعاون ضروری ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز کسی مخصوص مرکز کی گرفتاری، مقدمہ یا عدالتی نتیجہ صرف متعلقہ ادارے یا معتبر رپورٹ کی تصدیق کے بعد شامل کرے گا۔