اسلام آباد: پاکستان نیوی اور پاکستان کوسٹ گارڈز نے بلوچستان کے ساحلی علاقے پشکان میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ کارروائی جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (جے ایم آئی سی سی) کے اشتراک سے قابلِ عمل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی۔

سرکاری بیان کے مطابق آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں شراب اور غیر قانونی ادویات برآمد کی گئیں۔ ضبط شدہ سامان مزید قانونی کارروائی کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں ضبط کیے گئے سامان کی مالی مالیت، مقدار یا اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی تعداد کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے ان امور کے بارے میں کوئی اضافی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

پشکان گوادر کے ساحلی خطے میں واقع ہے اور بحیرۂ عرب کے قریب ہونے کے باعث بحری نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اہم مقام رکھتا ہے۔ پاکستان نیوی، کوسٹ گارڈز اور دیگر میری ٹائم ادارے ساحلی پٹی اور سمندری راستوں پر مختلف نوعیت کی نگرانی اور مشترکہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس آپریشن میں جے ایم آئی سی سی کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی رابطے کو کارروائی کا اہم حصہ بنایا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو سراہا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ملک سے اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ انتہائی اہم ہے۔ وزیراعظم نے آپریشن میں شریک پاکستان نیوی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نگرانی اور تیاری کی تعریف بھی کی۔

اسمگلنگ کے خلاف حکومتی پالیسی میں زمینی اور سمندری دونوں راستوں کی نگرانی شامل ہے، کیونکہ غیر قانونی تجارت سے محصولات، مقامی صنعت اور قانون نافذ کرنے والے نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی مخصوص کیس میں جرم، ذمہ داری یا نیٹ ورک سے متعلق حتمی نتیجہ قانونی تفتیش اور عدالتی عمل سے ہی طے ہوتا ہے۔ پشکان کارروائی میں فی الحال سرکاری طور پر صرف ضبطی اور قانونی کارروائی کے لیے سامان کو کوسٹ گارڈز کے حوالے کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر نے آپریشن کو پاکستان نیوی، پاکستان کوسٹ گارڈز اور میری ٹائم رابطہ نظام کے مشترکہ اقدام کے طور پر پیش کیا ہے۔ مزید تفصیلات، اگر متعلقہ حکام جاری کرتے ہیں، تو ان سے ضبط شدہ سامان کی مقدار، ممکنہ ملزمان، روٹ اور قانونی مقدمات کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔