اسلام آباد: پاکستان نیوی کی نئی شامل کی گئی ہنگور کلاس آبدوز نے شمالی بحیرہ عرب میں اپنی پہلی لائیو ویپن فائرنگ مکمل کر لی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کے دوران آبدوز سے اینٹی شپ کروز میزائل فائر کیا گیا جس نے طویل فاصلے پر مقررہ ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

جیو نیوز کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ نیول چیف نے پی این ایس/ایم ہنگور کی جنگی صلاحیت اور عملے کی پیشہ ورانہ تیاری کو سراہا۔

یہ سرگرمی ہنگور کلاس آبدوز کے پاکستان نیوی کے آپریشنل ڈھانچے میں شامل ہونے کے بعد اس کی ہتھیار استعمال کرنے کی عملی صلاحیت کے مظاہرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ لائیو ویپن فائرنگ عام تربیتی سرگرمی سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں حقیقی ہتھیار کے ذریعے مقررہ ہدف کے خلاف نظام، عملے اور پلیٹ فارم کی مشترکہ کارکردگی آزمائی جاتی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فائر کیا گیا ہتھیار اینٹی شپ کروز میزائل تھا اور ہدف کو توسیعی فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں میزائل کی مخصوص قسم، درست فاصلہ یا دیگر تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں کوئی اضافی دعویٰ سرکاری بیان سے ثابت نہیں ہوتا۔

ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان نیوی کی زیرِ آب جنگی صلاحیت میں اضافے کے پروگرام کا حصہ ہیں۔ نئی آبدوز کی پہلی عملی ہتھیار فائرنگ اس کے سینسر، فائر کنٹرول اور میزائل نظام کے باہمی استعمال کی جانچ کا اہم مرحلہ سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان نیوی بحیرہ عرب میں سمندری دفاع، تجارتی راستوں کی نگرانی اور زیرِ آب دفاعی صلاحیت کو اپنی عملی ذمہ داریوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔ موجودہ فائرنگ کے بارے میں جاری سرکاری معلومات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نئی آبدوز نے اینٹی شپ کروز میزائل کے ذریعے مقررہ ہدف کے خلاف لائیو فائرنگ مکمل کی۔

فوجی مشقوں اور ہتھیاروں کی آزمائش سے متعلق کئی تکنیکی معلومات عمومی طور پر عوامی سطح پر جاری نہیں کی جاتیں۔ اس واقعے میں بھی سرکاری بیان نے کامیاب ہدف بندی کی تصدیق کی ہے، تاہم میزائل کی رینج، ہدف کی نوعیت اور مشق کے مکمل آپریشنل منظرنامے کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔