اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے حکومت کو پاکستان کی طویل مدتی موسمیاتی پیش گوئی کی صلاحیت کے بارے میں بریفنگ دی ہے، جو 12 ماہ تک کا آؤٹ لک فراہم کرسکتی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے این ڈی ایم اے کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی پیش گوئی صرف معلومات تک محدود نہ رہے بلکہ اسے بروقت فیصلوں، ابتدائی وارننگ اور خطرے سے دوچار آبادیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ملاقات میں سبکدوش ہونے والے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل حسن خٹک شریک ہوئے۔ گفتگو کا محور آفات سے پیشگی تیاری، موسمیاتی لچک اور پاکستان کی بڑھتی موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت تھا۔ وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی اور تیز آبادی میں اضافے کو پاکستان کے لیے دور رس معاشی اور سماجی اثرات رکھنے والے بنیادی چیلنجز قرار دیا۔

این ڈی ایم اے کے طویل مدتی آؤٹ لک کو پاکستان محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں کی قلیل مدتی نگرانی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ طویل مدتی پیش گوئی حکومتوں کو فصلوں، پانی، ہنگامی ذخائر اور مالی وسائل کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ مختصر مدت کی درست وارننگ سیلاب، شدید بارش، گرمی کی لہر یا دیگر خطرات کے وقت مقامی سطح پر فوری کارروائی کے لیے ضروری رہتی ہے۔

این ڈی ایم اے نے گلوبل ریزیلینس ہب اور نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجیز سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد پاکستان کے آفات سے نمٹنے کے ماڈل کو صرف حادثے کے بعد ردعمل سے نکال کر پیشگی، ٹیکنالوجی پر مبنی خطرہ کمی کی سمت لے جانا ہے۔ تاہم کسی پیش گوئی کی مدت زیادہ ہونا بذات خود اس کی مکمل درستگی کی ضمانت نہیں؛ طویل مدتی موسمیاتی آؤٹ لک عموماً امکانات اور رجحانات بتاتے ہیں اور انہیں مسلسل تازہ ڈیٹا کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

حکومت نے موسمیاتی لچک کے لیے ملکی وسائل اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں سے فنانسنگ متحرک کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے سیلاب، گرمی کی لہروں اور دیگر شدید موسمی واقعات نے پیشگی تیاری کی معاشی اہمیت واضح کی ہے۔ بہتر پیش گوئی کا اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب وارننگ بروقت مقامی اداروں اور شہریوں تک پہنچے اور اس کے مطابق انخلا، ذخیرہ، انفراسٹرکچر تحفظ اور دیگر عملی اقدامات کیے جائیں۔