اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کم اور متوسط آمدن والے صارفین کے لیے نسبتاً سستی گاڑیوں، الیکٹرک وہیکلز، مقامی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کو بنیادی ترجیحات قرار دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے 7 نومبر کو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پالیسی کے اہم نکات پیش کیے۔
حکومت کے مطابق نئی پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر قائم ہے: قابل استطاعت گاڑیوں کی دستیابی، آٹو مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، مقامی سطح پر پرزہ سازی اور تیاری میں اضافہ، گاڑیوں کے حفاظتی معیار کو بہتر بنانا اور شعبے میں شفافیت یقینی بنانا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی کے ذریعے گاڑیوں کی تیاری کی لاگت کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیاں زیادہ صارفین کی پہنچ میں آ سکیں۔
مشیر صنعت کے مطابق 1300 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی وزیراعظم کی خصوصی ترجیح ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آٹو سیکٹر کی پالیسی کو صرف بڑے یا مہنگے ماڈلز تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے خریداروں کی ضروریات بھی سامنے رکھی جائیں گی جو محدود آمدن میں ذاتی ٹرانسپورٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم صارفین کو حقیقی قیمت میں کتنی کمی ملے گی، اس کا انحصار کمپنیوں کی قیمتوں، پیداواری لاگت، ٹیکس اور پالیسی کے عملی نفاذ پر ہوگا۔
پالیسی میں برآمدات اور مقامی صنعت کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ حکومت نے آٹو سے متعلق مصنوعات کی برآمدات کو آئندہ پانچ سال میں 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی پرزہ سازی بڑھانے، صنعت کو عالمی معیار کے مطابق بنانے اور برآمدی منڈیوں تک رسائی بہتر کرنے کے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ رقم ایک پالیسی ہدف ہے، حاصل شدہ برآمدی نتیجہ نہیں، اس لیے اس کی پیش رفت آنے والے برسوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوگی۔
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کو ایندھن کی درآمدی لاگت اور ماحولیاتی دباؤ کم کرنے کی حکمت عملی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پالیسی متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی اور اس میں کم آمدن والے طبقات کو فائدہ پہنچانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ای وی کے استعمال سے ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نئی پالیسی کے اثرات کا اصل اندازہ اس کے نفاذ، سرمایہ کاری، مقامی تیاری کے تناسب، حفاظتی معیار، چارجنگ انفراسٹرکچر اور صارفین کے لیے حتمی قیمتوں سے ہوگا۔ حکومت نے سمت اور اہداف واضح کیے ہیں، لیکن صنعت اور صارفین پر عملی اثرات مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔

