کراچی: پاکستان کی تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی ریٹیل موجودگی بڑھانے کے ساتھ برقی گاڑیوں کی چارجنگ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ آٹھ نومبر کی کاروباری رپورٹ کے مطابق پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کی طلب کے باعث روایتی ایندھن کا کاروبار اب بھی کمپنیوں کی توسیعی سرگرمیوں میں نمایاں ہے۔

پی ایس او نے مالی سال دو ہزار ستائیس کی پہلی سہ ماہی میں سینتیس نئے ریٹیل مقامات کی تیاری مکمل کی۔ اس طرح کمپنی کا ملک گیر نیٹ ورک تین ہزار سات سو ستائیس آؤٹ لیٹس تک پہنچ گیا۔ فیصل آباد اور ملتان میں نئے چارجرز کے اضافے سے اس کے برقی گاڑیوں کی چارجنگ کے مقامات کی تعداد سولہ ہوگئی۔

وافی انرجی پاکستان نے تیس ستمبر تک نو ماہ میں شیل کے چون نئے ریٹیل اسٹیشن اور نو چارجنگ مقامات شامل کیے۔ اٹک پٹرولیم نے پہلی سہ ماہی میں پانچ نئے آؤٹ لیٹس شروع کیے جبکہ چھ کم کارکردگی والے مقامات ختم کیے۔ ستمبر کے اختتام پر اس کا فعال ریٹیل نیٹ ورک آٹھ سو سولہ مقامات پر مشتمل تھا۔

اٹک پٹرولیم کی چارجنگ سہولتوں میں شراکت دار اداروں کے ساتھ قائم کیے گئے مقامات بھی شامل ہیں۔ کمپنی نے اسلام آباد میں ایک بھاری استعداد کا چارجر نصب کیا اور منتخب ریٹیل مقامات پر مزید سہولتیں بڑھانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ منصوبہ بند تنصیبات کو پہلے سے مکمل شدہ نیٹ ورک کا حصہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب آٹو پالیسی دو ہزار چھبیس تا اکتیس کے تحت نئی گاڑیوں میں برقی گاڑیوں کا حصہ بڑھانے کا ہدف بتایا جا رہا ہے۔ ریٹیل ایندھن اور چارجنگ کے دونوں نیٹ ورکس میں توسیع سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں موجودہ صارفین کی ضروریات کے ساتھ گاڑیوں کی بدلتی ٹیکنالوجی کے لیے بھی تیاری کر رہی ہیں۔