اسلام آباد: وفاقی حکومت ٹیکس وصولیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مزید تنظیم نو اور ممکنہ طور پر ایک نئے ٹیکس کلیکشن ادارے کے قیام سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس نے ایف بی آر کو انسانی وسائل میں اصلاحات، ادارہ جاتی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور مجموعی اصلاحاتی منصوبے سے متعلق جامع تجاویز 19 اکتوبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک نئے قومی ٹیکس ادارے کا تصور اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں زیر بحث آیا، تاہم ابھی کوئی حتمی پالیسی یا ادارہ جاتی خاکہ منظور نہیں ہوا۔ ایف بی آر کے ترجمان نے بھی واضح کیا کہ اصلاحاتی عمل کے دوران متعدد تجاویز زیر غور آتی رہتی ہیں اور جب تک کوئی تجویز باقاعدہ حکومتی پالیسی نہ بن جائے، اسے حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لیے نئے ادارے کا قیام اس مرحلے پر زیر غور تجویز ہے، منظور شدہ فیصلہ نہیں۔

ایف بی آر نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم نے بورڈ کو انسانی وسائل کی اصلاح اور تنظیم نو کے لیے جامع تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مقصد ایف بی آر کو زیادہ مضبوط، مؤثر اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسان بنانا ہے۔ ترجمان نے ریونیو وصولی کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ موجودہ توجہ خود ایف بی آر کی اصلاح پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایف بی آر کے اختیارات کسی نئے ادارے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت متعدد ٹیکس قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔ گزشتہ کئی برسوں میں ایف بی آر کے ڈھانچے، کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کے انتظام، ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے نظام میں مختلف اصلاحات کی گئی ہیں، لیکن ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت اور محصولات کے اہداف بدستور بڑے چیلنج ہیں۔

گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد رہا اور اصل سالانہ ہدف میں ایک کھرب روپے سے زیادہ کی کمی ریکارڈ ہوئی۔ رواں مالی سال کے 15.263 ٹریلین روپے کے ہدف کے لیے 17 فیصد سے زیادہ نمو درکار ہے۔ رپورٹ میں سرکاری ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں محصولات میں تقریباً 650 ارب روپے کی کمی ہو سکتی ہے۔ حتمی سمت کا انحصار 19 اکتوبر کو پیش کی جانے والی تجاویز اور بعد کی حکومتی منظوری پر ہوگا۔