مسلسل اپ ڈیٹس

ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام پر وفاقی حکومت کا غور

وفاقی حکومت ٹیکس وصولیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مزید تنظیم نو یا ممکنہ طور پر ایک نئے قومی ٹیکس کلیکشن ادارے کے قیام سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وزیراعظم آفس نے ایف بی آر کو انسانی وسائل، ادارہ جاتی ڈھانچہ اور مجموعی اصلاحاتی منصوبے سے متعلق جامع تجاویز 19 اکتوبر تک پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئے ادارے کا تصور زیرِ بحث آیا مگر کوئی حتمی پالیسی یا ادارہ جاتی خاکہ منظور نہیں ہوا؛ ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ تجاویز زیرِ غور ہیں اور محصولات کسی نجی کمپنی کو حوالے کرنے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ اگر اختیارات کسی نئے ادارے کو منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت متعدد ٹیکس قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔ گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد تھا اور اصل سالانہ ہدف میں ایک کھرب روپے سے زائد کمی ریکارڈ ہوئی؛ رواں مالی سال کے 15.263 ٹریلین روپے کے ہدف کے لیے 17 فیصد سے زائد نمو درکار ہے اور سرکاری ذرائع نے موجودہ رفتار کی صورت میں تقریباً 650 ارب روپے کی ممکنہ کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے