اسلام آباد: ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سرکاری بلیو پاسپورٹس کی تعداد 74 ہزار سے کم ہو کر تقریباً 49 ہزار رہ گئی ہے۔ یہ معلومات سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں، جہاں پاسپورٹ کے اجرا، سرکاری دستاویزات کے دائرہ کار اور شہریوں کو سہولت دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔

ڈان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ بلیو پاسپورٹس کے اجرا کے دائرے کو محدود کرنے اور اہل سرکاری عہدوں کی جانچ کے نتیجے میں ان کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سرکاری پاسپورٹ عام پاسپورٹ سے الگ نوعیت کی سفری دستاویز ہے اور اس کا اجرا مقررہ قواعد اور اہل عہدوں سے منسلک ہوتا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس نظام میں شفافیت اور قواعد کی یکساں پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں شہریوں کے لیے پاسپورٹ خدمات کو مزید قابل رسائی بنانے کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔ حکام کے مطابق نادرا کے بعض مراکز کے ساتھ پاسپورٹ سہولتوں کے انضمام اور ڈیجیٹل طریقہ کار کے استعمال سے درخواست گزاروں کے لیے عمل آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین نے عوامی خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید نظام سے وقت اور انتظامی بوجھ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پاسپورٹ حکام نے کمیٹی کو مختلف اقسام کے پاسپورٹس اور ان کے اجرا سے متعلق انتظامی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے جاری تمام دستاویزات کسی ایک وقت میں منسوخ کی گئی ہیں؛ حکام کی بریفنگ میں مجموعی فعال تعداد میں کمی بیان کی گئی ہے۔ اہلیت، تجدید اور اجرا کا فیصلہ متعلقہ سرکاری قواعد کے تحت کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران پاسپورٹ دفاتر پر درخواستوں کے دباؤ، مشین ریڈ ایبل اور ای پاسپورٹ خدمات، فیس ادائیگی اور ترسیل کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے پر کام ہوا ہے۔ تازہ بریفنگ اسی وسیع تر انتظامی اصلاح کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ حکام کی جانب سے پیش کردہ 49 ہزار کا عدد موجودہ سرکاری بلیو پاسپورٹس کی تعداد سے متعلق ہے اور مستقبل میں تقرریوں، ریٹائرمنٹ، اہلیت اور تجدید کے باعث اس میں تبدیلی ممکن ہے۔