وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن پر مبنی ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کے بعد پٹرول 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ یہ نرخ ہفتہ 5 ستمبر سے پیر 7 ستمبر 2026 تک نافذ رہنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

تازہ فیصلے میں دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی سمت مختلف رہی: پٹرول سستا ہوا جبکہ ڈیزل مہنگا کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت پٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ یہ رقم نئی خوردہ قیمت کا حصہ ہے؛ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ پوری قیمت صرف ٹیکس پر مشتمل ہے، کیونکہ درآمد یا ریفائنری لاگت، فریٹ، مارجن اور دیگر عناصر بھی قیمت کے طریقۂ کار میں شامل ہوتے ہیں۔

حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی کی تیز تبدیلیوں کے پس منظر میں جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کرنے کا نظام اختیار کیا تھا۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے 17 جولائی کو کہا تھا کہ کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو عالمی رجحانات کے مطابق روزانہ قیمت طے کرنے کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے مارچ کے آغاز سے قیمتیں زیادہ تر ہفتہ وار نظرثانی کے ذریعے جاری کی جا رہی تھیں۔

ڈان کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک گئی تھی، جبکہ فروری کے آخر میں علاقائی جنگ شروع ہونے کے بعد اس میں 281 روپے فی لیٹر کی سطح سے اضافہ شروع ہوا تھا۔ پٹرول بھی 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچا تھا، جس کی قیمت مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے کے قریب تھی۔ تازہ نرخ ان بلند سطحوں سے کم ہیں، لیکن موجودہ فیصلہ صرف تین روز کی مختصر مدت کے لیے جاری ہوا ہے اور آئندہ قیمت عالمی منڈی اور سرکاری طریقۂ کار کے مطابق دوبارہ تبدیل ہوسکتی ہے۔

پٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں، نجی اور چھوٹی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی براہ راست روزمرہ سفر کرنے والے صارفین کے لیے اہم ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، سامان کی نقل و حمل، بعض بجلی گھروں اور بڑے جنریٹروں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کا اضافہ نقل و حمل اور کاروباری لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم کسی شے کی خوردہ قیمت یا کرایوں پر حتمی اثر مارکیٹ، فاصلے، معاہدوں اور دیگر اخراجات پر منحصر ہوگا۔

رپورٹ میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ماہانہ فروخت تقریباً سات سے آٹھ لاکھ ٹن بتائی گئی ہے، جس کے باعث دونوں مصنوعات سرکاری محصولات اور توانائی استعمال میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ مختصر وقفوں میں قیمتیں بدلنے سے صارفین، ٹرانسپورٹرز، پٹرول پمپس اور کاروباروں کو بجٹ اور نرخوں کی منصوبہ بندی میں زیادہ بار ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑ سکتی ہے۔ نئی قیمتیں متعلقہ نوٹیفکیشن کی مقررہ مدت تک ہی قابل اطلاق ہیں۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پٹرول میں 3.13 روپے کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 3.74 روپے اضافہ، نئی فی لیٹر قیمتیں اور 5 سے 7 ستمبر کی نفاذی مدت ہے۔ اس اعلان کو طویل مدت کے لیے مستقل کمی یا اضافے کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے، کیونکہ روزانہ نظرثانی کے موجودہ طریقے میں اگلا نوٹیفکیشن نرخ دوبارہ تبدیل کرسکتا ہے۔