وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نئی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 1 روپے 49 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 2 روپے 73 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ نئے نرخ 30 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔

ڈان کے مطابق قیمت میں کمی کے بعد پٹرول 387 روپے 54 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 402 روپے 24 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ قیمتوں میں حالیہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی تیل منڈی اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث پاکستان کے توانائی درآمدی اخراجات مسلسل دباؤ میں رہے ہیں۔

رواں سال ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ڈان کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اپریل کے اوائل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک گیا تھا، جبکہ پٹرول 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچا۔ اس کے بعد عالمی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ مقامی نرخ بتدریج نیچے آئے ہیں۔ حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیز تبدیلیوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

پٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست گھریلو سفری اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، مال برداری، بعض بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کے نرخ میں کمی یا اضافہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری لاگت تک اثر منتقل کر سکتا ہے۔

ایندھن کی بلند قیمتوں کے دوران حکومت نے کفایت شعاری اور ہدفی ریلیف کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ ڈان کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں عارضی کمی، بازاروں کے اوقات محدود کرنے اور کم گنجائش کی گاڑیوں و موٹر سائیکل صارفین کے لیے ریلیف اسکیم جیسے اقدامات کیے گئے۔ 29 ستمبر کو نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی نے اس اسکیم کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا، جہاں لاکھوں رجسٹریشنز اور ٹوکن ریڈیمپشن کی پیش رفت رپورٹ کی گئی۔

نئے نرخوں سے صارفین کو فی لیٹر محدود ریلیف ملے گا، تاہم مجموعی ٹرانسپورٹ اور مہنگائی پر اثر عالمی تیل قیمتوں، روپے کی قدر، ٹیکس پالیسی اور آئندہ قیمتوں کی نظرثانی پر منحصر رہے گا۔