وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 17 ستمبر سے ہوگا۔ اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 391 روپے 22 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 421 روپے 45 پیسے ہو گئی ہے۔

ڈان کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے تازہ اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں کو قرار دیا ہے۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ مقامی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔ حکومت اس وقت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔

ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل کے آغاز میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی جبکہ پیٹرول 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گیا تھا۔ بعد میں قیمتوں میں کمی ہوئی، تاہم عالمی توانائی منڈی میں جاری دباؤ کے باعث روزانہ بنیادوں پر نئی قیمتیں طے کی جا رہی ہیں۔

حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی میں تیز تبدیلیوں کے باعث اوگرا کو روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اس سے قبل قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر تبدیل کی جا رہی تھیں۔ پیٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے وسیع معاشی اثرات ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں موٹر سائیکل، آٹو رکشا اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہدفی ایندھن ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق مخصوص ماہانہ کوٹے پر 100 روپے فی لیٹر تک ریلیف دینے کا منصوبہ ہے۔ تازہ قیمتوں میں اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت ایک جانب عالمی قیمتوں کے اثرات مقامی صارفین تک منتقل کر رہی ہے اور دوسری جانب محدود آمدنی والے مخصوص صارفین کے لیے ہدفی سبسڈی کا نظام متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔