وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 2 پیسے اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے اضافہ ہوا اور اس کی نئی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر سے 14 ستمبر 2026 تک کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومت نے حالیہ مہینوں میں عالمی تیل منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باعث ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا دورانیہ مختصر کیا ہے۔ جولائی میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اوگرا کو قیمتوں کے زیادہ متواتر تعین کی ذمہ داری دی جائے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات پر وفاقی محصولات بھی بدستور بلند سطح پر ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کے قریب ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد ہیں۔ اس وجہ سے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیکس ڈھانچہ بھی صارفین کے لیے حتمی قیمت پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔
پیٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست گھریلو بجٹ اور شہری آمدورفت کے اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، صنعتی سرگرمیوں، بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز اور مال برداری میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور پیداواری لاگت بڑھا سکتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اور خلیج فارس میں کشیدگی نے عالمی توانائی سپلائی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی بڑی توانائی ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں اور جہازرانی کے اخراجات میں تبدیلی مقامی نرخوں پر تیزی سے منتقل ہو سکتی ہے۔ حکومت نے اس پس منظر میں ایندھن کی قیمتوں کا بار بار جائزہ لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
نئی قیمتوں کے بعد ٹرانسپورٹ، زراعت اور کاروباری شعبوں میں لاگت کے مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ صارفین پہلے ہی مہنگائی اور بلند توانائی اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئندہ نظرثانی عالمی خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔




