اسلام آباد: پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے تقریباً 200 ملین ڈالر کی ایشیائی ترقیاتی بینک فنانسنگ سے منسلک بڑے منصوبے کو اگلے منظوری مرحلے میں بھیج دیا ہے۔ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے تقریباً 57 ارب روپے مالیت کے Transforming and Digitalising Revenue Administration، یا TADRA، منصوبے کی سفارش ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل کو کی، تاہم اس کے ساتھ کئی شرائط اور کارکردگی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
منصوبے کا بنیادی مقصد ایف بی آر کے ٹیکس انتظامی نظام کو جدید بنانا، ڈیٹا اور آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر کرنا، کسٹمز کلیئرنس میں شفافیت بڑھانا اور ٹیکس بیس کو وسعت دینا ہے۔ ایف بی آر نے منصوبہ بندی حکام کو بتایا کہ یہ اقدام اس کے 2024 سے 2028 کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے 2029 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو موجودہ تقریباً 11 فیصد سے بڑھا کر 13.5 فیصد تک لے جانے کی کوشش کی جائے گی۔
منصوبہ بندی کمیشن نے تاہم اس بات پر زور دیا کہ نئے قرض کے استعمال سے پہلے سابقہ اصلاحاتی پروگراموں کے نتائج کا واضح جائزہ ضروری ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات کے لیے پاکستان ماضی میں بھی کئی ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کر چکا ہے۔ اسی پس منظر میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس سے منصوبے کے کاروباری ماڈل اور متوقع نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کی شرط عائد کی۔
حکام نے ایف بی آر سے یہ بھی کہا کہ گزشتہ اصلاحاتی پروگراموں، بشمول ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارمز، پاکستان سنگل ونڈو اور دیگر ڈیجیٹل منصوبوں کے اثرات، اخراجات اور حاصل شدہ نتائج کا تقابلی جائزہ پیش کیا جائے۔ منصوبہ بندی کمیشن کے مختلف شعبوں اور بیرونی ماہرین نے ڈیٹا سکیورٹی، مجوزہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل، موجودہ نظام کے خلا، کارکردگی کے قابل پیمائش اشاریوں اور منصوبے کی طویل مدتی پائیداری سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔
TADRA کے تحت ایف بی آر کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کرنے، ڈیٹا اسٹوریج کی گنجائش بڑھانے اور بعض بڑے صنعتی شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اور ڈیجیٹل سسٹمز کے استعمال کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ٹیکس وصولی، تعمیل اور انتظامی نگرانی بہتر ہو سکتی ہے، مگر اس کے حقیقی مالی فائدے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے نظام سے اضافی ریونیو کس حد تک حاصل ہوتا ہے۔
اے ڈی بی کی مجوزہ 200 ملین ڈالر فنانسنگ طویل مدتی رعایتی شرائط سے منسلک ہے۔ منصوبہ ابھی حتمی نفاذ کے مرحلے میں نہیں پہنچا؛ ایکنک کی منظوری، مقررہ شرائط کی تکمیل اور متعلقہ مالی و تکنیکی جائزوں کے بعد ہی اس کی مکمل پیش رفت واضح ہوگی۔




