اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی وسیع کرنے اور نئی برآمدی مارکیٹیں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں زرعی پیداوار کو برآمدی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور بیرونی منڈیوں میں پاکستانی اشیا کی مسابقت بہتر بنانے سے متعلق امور زیر غور آئے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے تاکہ پیداوار، معیار، پراسیسنگ اور مارکیٹ رسائی سے متعلق اقدامات الگ الگ کے بجائے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ سکیں۔
پاکستان کی زرعی معیشت میں فصلوں، پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی مصنوعات کا اہم کردار ہے، تاہم بین الاقوامی تجارت میں صرف خام پیداوار کے بجائے پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن زیادہ آمدن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اجلاس میں زرعی مصنوعات کو بہتر معیار، پیکجنگ اور برآمدی تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ موجودہ برآمدی منڈیوں میں پاکستان کے حصے کو بڑھانے کے ساتھ ان ممالک اور خطوں کی نشاندہی کی جائے جہاں پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے نئی تجارتی گنجائش موجود ہے۔ اس عمل میں مارکیٹ کی ضروریات، معیار کے ضابطوں اور درآمدی شرائط کو پیش نظر رکھنا ہوگا تاکہ برآمد کنندگان کو قابل عمل مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
حکومت زرعی برآمدات کو زرمبادلہ کمانے اور دیہی معیشت میں آمدن بڑھانے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اجلاس کی ہدایات کے بعد اصل پیش رفت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے نئی منڈیوں تک رسائی، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی سہولت کاری کے لیے کس رفتار سے قابل پیمائش اقدامات کرتے ہیں۔




