نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے Integrated System Plan 2025 کو تحفظات اور شرائط کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔ یہ منصوبہ 2025 سے 2035 تک بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام میں مجموعی طور پر تقریباً 58 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تصور پیش کرتا ہے۔ ریگولیٹر کے 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں چیئرمین سمیت تینوں ارکان نے الگ یا اختلافی نوٹس بھی لکھے اور بعض اہم منصوبوں کو شامل یا خارج کرنے کی بنیادوں پر سوال اٹھائے۔
منظور شدہ بنیادی کیس کے تحت آئندہ برسوں میں 26,045 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں 17,485 میگاواٹ پہلے سے committed منصوبے اور 8,560 میگاواٹ optimized صلاحیت شامل ہے۔ اسی عرصے میں 2,577 میگاواٹ پرانی صلاحیت ریٹائر کرنے کی تجویز بھی ہے۔ منصوبے کے مطابق 2035 تک مجموعی نصب شدہ صلاحیت 62,657 میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے، جس میں تقریباً 8,120 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے۔
نیپرا کے فیصلے کے مطابق نئی پیداواری صلاحیت کی تخمینی لاگت 47.08 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ جاری اور committed ٹرانسمیشن منصوبوں کے لیے تقریباً 4.6 ارب ڈالر جبکہ نئے ٹرانسمیشن توسیعی منصوبوں کے لیے مزید 6.05 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ یوں ترسیلی نظام کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 10.65 ارب ڈالر بنتی ہے۔ منصوبوں میں نئی ہائی وولٹیج سب اسٹیشنز، ٹرانسفارمر اپ گریڈیشن، وولٹیج کنٹرول اور بجلی کی ترسیل بہتر بنانے کی اسکیمیں شامل ہیں۔
نیپرا نے منصوبہ بندی کے عمل میں مشترکہ مفادات کونسل، سی سی آئی، کے کردار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ریگولیٹر نے کہا کہ قومی بجلی پالیسی یا پلان میں تبدیلیاں کسی تکنیکی کمیٹی یا پاور ڈویژن کی ہدایت پر ایسی صورت میں نہیں ہونی چاہییں کہ آئینی فورم سے دوبارہ منظوری ہی نہ لی جائے۔ اتھارٹی نے Independent System and Market Operator اور Power Planning and Monitoring Company کے بعض متضاد مؤقف بھی فیصلے میں ریکارڈ کیے۔
ریگولیٹر نے 900 ملین ڈالر کی Battery Energy Storage Systems سرمایہ کاری کو فی الحال منظور نہیں کیا اور اس کے لیے جامع تکنیکی و معاشی مطالعہ طلب کیا ہے تاکہ ضرورت، موزوں گنجائش، استعمال اور لاگت کی افادیت ثابت کی جا سکے۔ اسی طرح K-Electric سے متعلق ایک ٹرانسمیشن لائن کو 2028 کے کیس سے خارج رکھا گیا، جبکہ دھابیجی میں 269 میگاواٹ کے ونڈ سولر ہائبرڈ منصوبے کو شامل کیا گیا۔
نیپرا نے صارفین کے ٹیرف پر منصوبے کے اثرات کی واضح پیمائش بھی طلب کی ہے۔ متعلقہ کمپنی کی پروجیکشن کے مطابق صارفین کے بنیادی ٹیرف میں 2024-25 کے تقریباً 34 روپے فی یونٹ سے 2035 تک 37.28 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم یہ حتمی نرخ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کی ایک پیش گوئی ہے۔ اس لیے نیپرا کی منظوری کو مکمل اور غیر مشروط منظوری کے بجائے اصلاحات، وضاحتوں اور مزید تجزیے سے مشروط فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔




