نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل مالیاتی جدت سے متعلق بریفنگ کے دوران ڈیجیٹل اثاثوں اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے واضح، مؤثر اور ذمہ دار ضابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین نے مؤقف اختیار کیا کہ جدت اور ضابطہ کاری کو ایک دوسرے کے مخالف تصورات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

پاکستانی نمائندے کے مطابق واضح قواعد مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعتماد پیدا کرنے، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور نئی ڈیجیٹل خدمات کو ذمہ دار انداز میں ترقی دینے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ان کے مالیاتی، قانونی اور صارف تحفظ سے متعلق خطرات کو بھی منظم فریم ورک میں لانا ضروری ہے۔

ڈیجیٹل اثاثوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی سرگرمی نے مختلف ممالک کو ایسے قواعد بنانے پر مجبور کیا ہے جن میں جدت کی گنجائش بھی برقرار رہے اور مالیاتی نظام کے لیے خطرات کی نگرانی بھی ممکن ہو۔ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے فورم پر پیش کیا گیا مؤقف اسی وسیع بحث کا حصہ ہے جس میں ریگولیٹرز، حکومتیں اور مالیاتی ادارے سرحد پار ڈیجیٹل لین دین، صارف تحفظ اور شفافیت کے معیارات پر غور کر رہے ہیں۔

پاکستانی موقف میں شمولیتی طرز عمل کی اہمیت بھی نمایاں کی گئی، تاکہ نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فوائد محدود حلقوں تک نہ رہیں اور ترقی پذیر معیشتوں کو بھی عالمی ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں مؤثر شرکت کا موقع مل سکے۔ اس تناظر میں قواعد کا مقصد صرف پابندیاں عائد کرنا نہیں بلکہ قابل اعتماد ماحول بنانا قرار دیا گیا جس میں کاروبار اور صارف دونوں واضح قانونی حدود کے اندر کام کر سکیں۔

یہ بیان کسی مخصوص ڈیجیٹل اثاثے کی منظوری یا سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں بلکہ پالیسی اور ضابطہ کاری سے متعلق پاکستانی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ عملی سطح پر مستقبل کے قواعد، لائسنسنگ تقاضے اور نگرانی کے طریقہ کار متعلقہ پاکستانی قوانین اور ریگولیٹری فیصلوں کے مطابق طے ہوں گے۔