اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے پاکستان کے بجلی کے نظام کے لیے 2025 سے 2035 تک کا انٹیگریٹڈ سسٹم پلان منظور کر لیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے میں اگلے دس برس کے دوران بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی ضروریات، نئی صلاحیت کے اضافے اور موجودہ نظام کی توسیع کا خاکہ دیا گیا ہے۔
منظور شدہ پلان کے مطابق 2025 میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 26 ہزار 950 میگاواٹ سے بڑھ کر 2035 تک 35 ہزار 521 میگاواٹ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر 26 ہزار 45 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس میں پہلے سے طے شدہ منصوبے اور ماڈل کے ذریعے منتخب کی گئی اضافی صلاحیت شامل ہے۔ اسی دوران تقریباً 2 ہزار 577 میگاواٹ پرانی یا غیر ضروری صلاحیت کو نظام سے نکالنے کی بھی تجویز ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیداواری توسیع پر تقریباً 47.13 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ ترسیلی نظام کی بہتری اور نئے گرڈ و لائن منصوبوں کے لیے مزید 10.65 ارب ڈالر درکار ہو سکتے ہیں۔ نیپرا نے تاہم تقریباً 900 ملین ڈالر کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کو فوری منظوری نہیں دی اور کہا کہ اس کی لاگت اور ضرورت کو مکمل تکنیکی مطالعے اور آپٹمائزیشن ماڈل میں جانچنے کے بعد دوبارہ دیکھا جائے۔
ریگولیٹر نے بعض ٹرانسمیشن تجاویز پر بھی سوالات اٹھائے، جن میں نیشنل گرڈ اور کے الیکٹرک کے درمیان مجوزہ انٹرکنکشن کی ٹائم لائن شامل ہے۔ نیپرا کے مطابق منصوبہ بندی میں استعمال ہونے والے بعض اعداد و شمار، ٹیرف کے تخمینوں اور ماڈلنگ کے طریقہ کار کو اگلے پلان میں زیادہ شفاف اور ہم آہنگ بنانا ضروری ہوگا۔
فیصلے کے ساتھ نیپرا کے ارکان نے الگ الگ مشاہدات بھی ریکارڈ کیے۔ بعض ارکان نے پن بجلی کے چند منصوبوں کے اخراج اور کم لاگت قابل تجدید توانائی منصوبوں کو پہلے منصوبہ بندی میں شامل نہ کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ چیئرمین نیپرا نے اس بڑے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ملک میں پیداواری صلاحیت طلب سے زیادہ ہونے کے باوجود صارفین کو کیپیسٹی ادائیگیوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ دن کے اوقات میں شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال سے قومی گرڈ کی طلب میں کمی آئی ہے۔
یہ منصوبہ آئندہ ایک دہائی کے لیے پاکستان کے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کی سمت طے کرنے میں اہم دستاویز ہوگا، تاہم اس کے مالی اثرات، نئی صلاحیت کی حقیقی ضرورت اور صارفین کے ٹیرف پر ممکنہ دباؤ پر بحث جاری رہنے کی توقع ہے۔




