اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کیا ہے۔ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 6 روپے 59 پیسے کم کر کے 346 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 25 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 378 روپے ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق مقررہ نوٹیفکیشن مدت کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ پیٹرولیم قیمتوں میں مسلسل پانچویں کمی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں عالمی خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور ملکی قیمت سازی کے فارمولے میں تبدیلیوں کے نتیجے میں صارفین کو مرحلہ وار ریلیف ملا ہے۔ تاہم پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی حتمی خوردہ قیمت صرف عالمی خام تیل کے نرخوں سے طے نہیں ہوتی بلکہ روپے کی شرح مبادلہ، فریٹ، پریمیم، پیٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی محصولات بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔

پیٹرول کی قیمت میں کمی براہ راست موٹر سائیکل، کار اور دیگر نجی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے صارفین کے اخراجات پر اثر ڈالتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل زرعی مشینری، مال برداری، بسوں اور تجارتی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی اشیائے خورونوش اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کی لاگت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

حالیہ خلیجی جنگ اور عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان کی پیٹرولیم قیمتوں پر غیر معمولی دباؤ رہا ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتوں میں تیزی یا سپلائی میں خلل ملکی مارکیٹ تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس پس منظر میں موجودہ کمی صارفین کے لیے ریلیف ہے، لیکن مستقبل کے نرخ عالمی منڈی اور روپے کی قدر سمیت متعدد متغیر عوامل سے وابستہ رہیں گے۔

اوگرا قیمتوں سے متعلق حساب اور سفارشات حکومتی پالیسی اور مقررہ فارمولے کے تحت تیار کرتا ہے، جبکہ وفاقی حکومت متعلقہ محصولات اور قیمتوں کے نفاذ کے فیصلے کرتی ہے۔ تازہ کمی کے بعد پیٹرول 346 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔

ٹرانسپورٹ اور کاروباری شعبوں کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ ایندھن کی اس کمی کا فائدہ کرایوں اور اشیا کی ترسیل کی لاگت میں کس حد تک منتقل ہوتا ہے۔ قیمتوں میں کمی کا مجموعی مہنگائی پر اثر بھی دیگر اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس اور خوراک کی قیمتوں کے رجحان کے ساتھ مل کر سامنے آئے گا۔